امریکا کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت میں کوئی ابہام موجود نہیں، خدشات بے بنیاد ہیں، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ایران: آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق فیصلہ خطے کے ممالک سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنوبی ایران کے جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کی کوئی کوشش کی تو اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایران میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کسی بھی امریکی زمینی حملے کی صورت میں امریکی افواج کے استقبال کے لیے منٹوں کا حساب رکھ رہے ہیں۔
امریکا کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے پھیلائے جانے والے بعض خدشات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا متن مختصر ہے، جس میں مجموعی طور پر 14 شقیں شامل ہیں، اور اس دستاویز میں کسی قسم کا ابہام یا غیر واضح نکتہ موجود نہیں۔ اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ
تہران: ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور اس سے متعلق امور پر پیش رفت خطے کے ممالک سے مشاورت اور باہمی بات چیت کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ اس حوالے سے عمان کا کردار بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کو عمان کے ساتھ مشاورت اور خلیجی خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ کسی بھی فیصلے میں تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف ابتدا ہی سے واضح رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور اس سے متعلق فیصلوں کی بنیادی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ خطے کی سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے پھیلائے جانے والے بعض خدشات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا متن مختصر ہے، جس میں مجموعی طور پر 14 شقیں شامل ہیں، اور اس دستاویز میں کسی قسم کا ابہام یا غیر واضح نکتہ موجود نہیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام معاملات کو شفاف انداز میں آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ خطے کے ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت کو بھی انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی راستے سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر عالمی برادری، خصوصاً توانائی درآمد کرنے والے ممالک، گہری نظر رکھتے ہیں۔