امریکا خطے کے مسلم ممالک میں اختلافات پیدا کرکے وسائل پر قبضہ چاہتا ہے: پزشکیان

امریکا خطے کے مسلم ممالک میں اختلافات پیدا کرکے وسائل پر قبضہ چاہتا ہے: پزشکیان

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنے مسائل خود حل کرسکتے ہیں، کسی بیرونی طاقت یا نگران کی ضرورت نہیں: ایرانی صدر

تہران:  ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے بعض مسلم ممالک کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔

ایک عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال، امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات، آبنائے ہرمز کے تنازع، سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان اختلافات سمیت علاقائی امن و سلامتی کے معاملات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی حکمت عملی خطے کے مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دے کر ان کے وسائل اور تزویراتی اہمیت کے حامل علاقوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو محض عسکری اقدامات کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان سیاسی رابطے اور مذاکرات ضروری ہیں۔

ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل پر ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے بعض مسلم ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ان امریکی فوجی تنصیبات کو جواباً نشانہ بنایا جہاں سے ایران کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایرانی صدر کا مؤقف

آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ یہ صورتحال بھی امریکی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے لیے سمندری اور تجارتی راستے محدود کیے جائیں گے تو آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک فطری ردعمل سمجھا جائے گا۔

تاہم ایرانی صدر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کا مستقل اور پائیدار حل فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو کشیدگی کم کرنے کے لیے براہ راست بات چیت اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات صرف ایران یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

سعودی عرب، حوثیوں میں مفاہمت کی پیشکش

ایرانی صدر نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت اور بات چیت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ان کے مطابق خطے میں موجود تنازعات کا حل علاقائی ممالک کے درمیان رابطے اور باہمی مفاہمت سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خطے کے ممالک کو خود اپنی سلامتی اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے مشترکہ راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

امریکا سے مذاکرات، اعتماد کا بحران برقرار

امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی میں امریکی حملوں اور پابندیوں کے باعث تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد شدید متاثر ہوا ہے۔

ان کے مطابق ایران امریکا کے ساتھ بات چیت کے اصولی طور پر مخالف نہیں، تاہم مذاکرات کے لیے باہمی اعتماد اور واضح مؤقف ضروری ہے۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کو اس معاملے پر اپنا واضح مؤقف پیش کرنا ہوگا۔

ایرانی صدر کے مطابق پاکستان اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان رابطے اور پیغامات کے تبادلے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رابطہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر جاری ہے۔

مسعود پزشکیان نے اشارہ دیا کہ تہران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو اہمیت دیتا ہے، تاہم ایران اپنے بنیادی مؤقف سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔

مشرق وسطیٰ کو بیرونی نگران کی ضرورت نہیں، پزشکیان

ایرانی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خطے کو کسی بیرونی طاقت یا نگران کی ضرورت نہیں۔

ان کے بقول پائیدار امن اور سلامتی بیرونی مداخلت یا فوجی دباؤ کے بجائے علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکی پابندیوں اور اسرائیل کے دباؤ کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق خطے میں دیرپا استحکام کے لیے تمام ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے مذاکرات، سفارت کاری اور تعاون کو ترجیح دینا ہوگی۔

ایرانی صدر کے بیان میں ایک طرف امریکا اور اسرائیل پر سخت الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب آبنائے ہرمز سمیت علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو بنیادی راستہ قرار دیا گیا ہے۔

ایران - امریکا - جنگایران – صدر - مسعود پیزشکیان
Comments (0)
Add Comment