امام الحق، محمد رضوان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع، پی سی بی نے موبائل ڈیٹا حاصل کر لیا گیا
لندن : پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑیوں امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف جاری تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لندن میں دونوں کرکٹرز کے موبائل فونز کا ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا ہے۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست کے بعد ٹیم کے ہوٹل پہنچنے پر سکیورٹی افسر نے امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فونز اپنی تحویل میں لے لیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹے بعد موبائل فونز کا ڈیٹا کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کے بعد دونوں کھلاڑیوں کو ان کے فون واپس کردیئے گئے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں دونوں کرکٹرز کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ وہ لندن میں کن افراد سے رابطے میں رہے اور ان کی ملاقاتیں کن لوگوں سے ہوئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے آئے تو انہیں بھاری جرمانوں سمیت دیگر تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق معاملہ سنگین ثابت ہونے کی صورت میں مستقبل میں دونوں کھلاڑیوں کے قومی ٹیم کی نمائندگی کے امکانات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
تاہم اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے باضابطہ طور پر کوئی تصدیق نہیں کی۔ پی سی بی کے ترجمان سے رابطہ کرکے موبائل فونز قبضے میں لیے جانے اور ڈیٹا حاصل کیے جانے سے متعلق سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس کی تصدیق کرنے سے گریز کیا۔
واضح رہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد ٹیم کی کارکردگی اور کھلاڑیوں سے متعلق مختلف معاملات زیرِ بحث ہیں۔ پی سی بی کی جانب سے تحقیقات کے حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی معاملے کی مزید تفصیلات واضح ہوسکیں گی۔