افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے ہلمند میں طالبان کے خلاف شدید حملے، 9 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے ہلمند میں طالبان کے خلاف شدید حملے، 9 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والے گروہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے صوبہ ہلمند میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طالبان کے خلاف دو الگ کارروائیوں میں 9 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں صوبہ ہلمند کے مختلف علاقوں میں طالبان کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ گروہ کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز نے طالبان کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا، جہاں شدید کارروائی کے نتیجے میں متعدد طالبان جنگجو مارے گئے۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق پہلی کارروائی ضلع گریشک میں طالبان کی ایک چوکی کے خلاف کی گئی۔ گروہ نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں طالبان کے 3 جنگجو ہلاک ہوئے، جبکہ کارروائی کے بعد مزاحمتی فورسز نے چوکی میں موجود بعض ہتھیار اور گولہ بارود بھی قبضے میں لے لیا۔

گروہ کے مطابق کارروائی کے دوران طالبان کی چوکی کو نشانہ بنانے کے بعد وہاں موجود جنگجوؤں کو مزاحمت کا موقع نہیں ملا اور حملہ آور فورسز نے چوکی پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ تاہم بیان میں اس کارروائی کے دوران افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے ممکنہ جانی نقصان یا دیگر نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے اس سے قبل صوبہ ہلمند ہی کے ضلع نوزاد میں طالبان کے خلاف ایک اور کارروائی کا دعویٰ کیا تھا۔ گروہ کے مطابق اس حملے میں طالبان کے 6 جنگجو مارے گئے۔ یوں گروہ کے اپنے دعوے کے مطابق دونوں کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے طالبان جنگجوؤں کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی ہے۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے اپنے بیان میں کارروائیوں کو طالبان کے خلاف جاری مسلح مزاحمت کا حصہ قرار دیا ہے۔ گروہ کی جانب سے اس نوعیت کے دعوے ایسے وقت سامنے آ رہے ہیں جب افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مختلف مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں اور سیکیورٹی صورتحال پر مسلسل توجہ مرکوز ہے۔

ہلمند افغانستان کا ایک اہم اور تزویراتی صوبہ ہے، جو طویل عرصے تک ملک میں جاری جنگ اور شورش کا مرکز رہا ہے۔ صوبے کے بعض اضلاع ماضی میں طالبان اور افغان و غیر ملکی فورسز کے درمیان شدید لڑائیوں کے باعث عالمی سطح پر بھی نمایاں رہے ہیں۔ گریشک اور نوزاد بھی ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں ماضی میں سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

تاہم افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی جانب سے طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور ہتھیار و گولہ بارود قبضے میں لینے کے دعووں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ طالبان حکام کی جانب سے بھی ان دونوں کارروائیوں اور مبینہ ہلاکتوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر جنگی محاذ ختم ہونے کے باوجود بعض مسلح مخالف گروہ طالبان حکومت کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں ہلمند جیسے سابقہ جنگ زدہ علاقوں میں ہونے والی مبینہ کارروائیاں افغانستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور طالبان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی تازہ کارروائیوں کے دعووں نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو اجاگر کیا ہے کہ طالبان حکومت کو ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی اور مسلح مزاحمت کے چیلنجز کا کس حد تک سامنا ہے۔ تاہم ان دعووں کی حتمی حیثیت آزادانہ تصدیق اور فریقین کے باضابطہ مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

افغانستانافغانستان یونائیٹڈ فرنٹ
Comments (0)
Add Comment