افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک
پاکستان کا افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے اور بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے پر زور
افغان طالبان کی پوسٹوں سے دراندازوں کی مدد کے لیے فائرنگ کی گئی، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دشمن کو بھاری نقصان، علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری
اسلام آباد: (نیوز پلس) کرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے 12 خوارج اور افغان طالبان کو ہلاک کردیا، فائرنگ کے شدید تبادلے میں پاک فوج کے نائب صوبیدار ہدایت امان نے جامِ شہادت نوش کیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 10 اکتوبر 2026 کو ضلع کرم میں پاک افغان سرحد کے قریب افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا پتا چلایا گیا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔
بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار مسلسل چوکس اور الرٹ تھے، جنہوں نے دراندازی کرنے والے گروہ کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ اس دوران افغان طالبان کی سرحدی پوسٹوں سے بھی دراندازی کی کوشش کو مدد فراہم کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے مہارت اور درست نشانہ بازی کے ذریعے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 12 خوارج اور افغان طالبان کو ہلاک کردیا۔
فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران نائب صوبیدار ہدایت امان نے بہادری سے لڑتے ہوئے وطن کے دفاع میں اپنی جان قربان کردی۔ شہید کی عمر 40 سال تھی اور ان کا تعلق ضلع غذر سے تھا۔
سکیورٹی فورسز کے مطابق پاک افغان سرحد پر پیش آنے والا یہ واقعہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال کو روکنے میں ناکامی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی ایک بار پھر تائید کرتا ہے۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ افغان طالبان حکومت سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام کے بجائے دہشت گرد عناصر کو سہولت فراہم اور ان کی سرپرستی کررہی ہے، جبکہ وہ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی مسلسل ناکام رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔ علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے دہشت گرد کو تلاش کرکے ختم کیا جاسکے۔ بیان میں دہشت گرد عناصر کو بھارتی سرپرستی حاصل ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیاں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت پوری رفتار سے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
بیان کے مطابق پاکستان کی سرزمین سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں ملکی سرحدوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔