اسلام آباد اسمبلی کے قیام کا مجوزہ مسودہ وزیراعظم کو پیش، 27 انتظامی محکموں کی تجویز
مسودہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے تیار کیا
اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی راہ ہموار ہوگئی، اسلام آباد اسمبلی کے قیام کے لیے تیار کردہ مجوزہ مسودہ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دیا گیا۔ مسودہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے تیار کیا ہے، جس میں اسلام آباد کے لیے منتخب مقامی حکومت، اسمبلی اور چیف ایگزیکٹو سمیت ایک نئے انتظامی نظام کی سفارشات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے بعد ایک ایسا نظام تجویز کیا ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے مقامی سطح پر قانون سازی، انتظامی امور اور شہری سہولتوں سے متعلق فیصلوں میں براہ راست کردار دیا جائے گا۔
آئینی ترمیم کے بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے اسمبلی کے قیام کی تجویز
مجوزہ مسودے کے مطابق اسلام آباد اسمبلی کے قیام کے لیے فوری طور پر آئینی ترمیم کے بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی سے قانون منظور کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
مسودے میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے باقاعدہ اسمبلی قائم کرنے کی تجویز ہے، جس کے ارکان براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں گے۔ تجویز کے مطابق اسمبلی کے 21 ارکان براہ راست انتخاب کے ذریعے ایوان کا حصہ بنیں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یوں اسلام آباد اسمبلی میں براہ راست منتخب ارکان کے ساتھ مخصوص نشستوں کا نظام بھی موجود ہوگا، جبکہ اسمبلی کے ارکان پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوگا۔
چیف ایگزیکٹو کا منصب، میئر یا وزیراعلیٰ کہلانے کی تجویز
مجوزہ انتظامی ڈھانچے میں اسلام آباد کے لیے ایک چیف ایگزیکٹو مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو منتخب اسمبلی کو جوابدہ ہوگا۔ مسودے میں چیف ایگزیکٹو کو میئر یا وزیراعلیٰ کا نام دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
اس نظام کے تحت منتخب حکومت کو اسلام آباد کے انتظامی اور مالی معاملات میں صوبائی طرز کی خودمختاری دینے کی سفارش کی گئی ہے، تاہم وفاقی حکومت بعض اہم اور حساس شعبوں پر اپنا اختیار برقرار رکھے گی۔
27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی تجویز
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی مجوزہ حکومت کے تحت 27 انتظامی محکمے قائم کیے جانے کی تجویز ہے۔ صحت، تعلیم، ماحولیات، شہری سہولتوں اور دیگر مقامی نوعیت کے معاملات منتخب حکومت کے دائرہ اختیار میں دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد اسلام آباد میں موجود اختیارات کے بکھرے ہوئے نظام کو ایک مربوط انتظامی ڈھانچے میں تبدیل کرنا ہے تاکہ شہریوں سے متعلق معاملات کے لیے مختلف وفاقی اور مقامی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم واضح ہوسکے۔
سی ڈی اے کے اختیارات اسلام آباد حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز
مجوزہ مسودے میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے اختیارات اور فرائض کی ازسرنو تقسیم کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ڈی اے کے تمام اختیارات اور ذمہ داریاں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز شامل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت مختلف اداروں کے فرائض اور ذمہ داریاں بھی نئے انتظامی ڈھانچے کے مطابق منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مجوزہ نظام کے تحت سی ڈی اے سمیت اسلام آباد میں کام کرنے والے مختلف اداروں کے اختیارات کو نئے سرے سے متعین کیا جائے گا تاکہ ایک ہی نوعیت کے امور میں مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کے تصادم اور انتظامی پیچیدگیوں کو کم کیا جاسکے۔
قانون، امن و امان اور ماسٹر پلاننگ وفاق کے پاس رکھنے کی تجویز
مسودے میں اسلام آباد کے تمام اختیارات منتخب حکومت کو منتقل کرنے کے بجائے بعض اہم معاملات وفاقی حکومت کے پاس رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق قانون، امن و امان اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ وفاق کے دائرہ اختیار میں رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان معاملات کو وفاق متعلقہ وزارت یا گورنر کے ذریعے چلائے گا۔
دوسری جانب صحت، تعلیم، ماحولیات، شہری سہولتوں اور دیگر انتظامی امور منتخب اسلام آباد حکومت کے سپرد کرنے کی تجویز ہے۔
چیف سیکرٹری اور چار سیکرٹریز کی تعیناتی
اسلام آباد کے نئے انتظامی نظام کو چلانے کے لیے چیف سیکرٹری اور چار سیکرٹریز تعینات کرنے کی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق چار سیکرٹریز کو مختلف انتظامی گروپس اور محکموں کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، جبکہ چیف سیکرٹری مجموعی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔
مجوزہ نظام میں اسلام آباد میں قائم تمام ادارے پورے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے کام کریں گے، تاہم وہ وفاقی ادارے جو پورے پاکستان کے لیے قائم کیے گئے ہیں، وہ اسلام آباد میں اپنی موجودہ ذمہ داریاں بدستور انجام دیتے رہیں گے۔
انتخابات الیکشن کمیشن کے تحت کرانے کی سفارش
اسلام آباد اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحت کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسمبلی کے ارکان کے انتخاب کے لیے باقاعدہ انتخابی عمل ہوگا جبکہ منتخب حکومت اپنی مدت کے دوران قانون اور مجوزہ انتظامی ڈھانچے کے مطابق امور انجام دے گی۔
مسودے کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت اپنے انتظامی امور چلانے کے لیے قواعد و ضوابط خود مرتب کرے گی، تاہم یہ قواعد پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے بنیادی قانون اور آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں گے۔
اسلام آباد کے لیے متحدہ قانون سازی کی سفارش
خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کے نئے انتظامی نظام کے لیے جامع اور متحدہ قانون سازی کی سفارش بھی کی ہے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سی ڈی اے آرڈیننس 1960 میں بھی نئے انتظامی ڈھانچے کے مطابق ضروری قانونی اور آئینی نوعیت کی ترامیم کی ضرورت ہوگی۔
وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں قانون سازی ہوگی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے نئے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔ مجوزہ مسودہ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کیا جاچکا ہے اور اس کی منظوری کے بعد اسے وفاقی کابینہ کے سامنے لایا جائے گا۔
وفاقی کابینہ سے منظوری ملنے کی صورت میں اسلام آباد اسمبلی کے قیام اور نئے انتظامی نظام کے لیے قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے گا، جس کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بل پیش کیے جانے کی تجویز ہے۔
خصوصی کمیٹی میں اہم حکومتی شخصیات شامل
اسلام آباد اسمبلی کے قیام کے لیے سفارشات مرتب کرنے والی اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔
کمیٹی میں طارق فضل چوہدری، مصدق ملک، رانا ثناء اللہ، طلال چوہدری، اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے دونوں ارکان قومی اسمبلی اور سیکرٹری داخلہ بھی شامل ہیں۔
خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کے موجودہ انتظامی ڈھانچے، اداروں کے اختیارات، شہری سہولتوں، مقامی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم سمیت مختلف امور کا جائزہ لے کر مجوزہ نظام مرتب کیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کی منظوری اور اس پر پارلیمانی قانون سازی کے بعد اسلام آباد میں انتظامی اختیارات کی تقسیم، منتخب نمائندگی اور شہری حکومت کے حوالے سے ایک نیا نظام متعارف ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔6 ستمبر