اسرائیل نے ٹرمپ امن منصوبے پر حماس کے جواب پر غزہ پر قبضے کا منصوبہ روک دیا

اسرائیل نے ٹرمپ امن منصوبے پر حماس کے جواب پر غزہ پر قبضے کا منصوبہ روک دیا

اسرائیل نے حماس کے ردعمل کے بعد ٹرمپ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر فوری عمل شروع کر دیا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف کی زیرصدارت حالیہ پیشرفت کی روشنی میں اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف، آپریشنز،  انٹیلی جنس اور پلاننگ ڈائریکٹوریٹ کےسربراہان سمیت  دیگر نے  شرکت کی۔

اجلاس کے دوران  اسرائیل کے چیف آف اسٹاف  نے یرغمالیوں کی رہائی کے منصوبے پرعمل درآمدکی تیاری آگے بڑھانےکی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی افواج کی حفاظت اولین ترجیح ہے، افواج کی حفاظت کےلیےآئی ڈی ایف کی تمام صلاحیتیں سدرن کمانڈکو تفویض کی جائیں گی۔

 امریکی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل اپنی کارروائیوں کو غزہ پٹی میں دفاع میں تبدیل کرے گا جبکہ غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے آپریشن کو بھی روک دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ حماس نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی ’غزہ امن منصوبہ‘ بڑی حد تک قبول کر لیا ہے۔
 حماس نے یرغمال اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے،

 حماس کا کہنا تھا کہ وہ ہتھیار مستقبل کے فلسطینی حکمرانوں کے حوالے کرے گی جبکہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا مجوزہ کردار مسترد کر دیا ہے۔

حماس - اسرائیل - معاہدہغزہ جنگ بندی منصوبہ
Comments (0)
Add Comment