آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی تمام جہازوں کیلئے ہے، ایران کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کا تعاقب کریں گے، جنرل ڈین کین
واشنگٹن: پینٹاگون میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران سے متعلق سخت پالیسی کا اعلان کیا۔
پریس بریفنگ کے دوران جنرل ڈین کین نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہے، جو ان تمام جہازوں پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہو رہے ہیں یا وہاں سے نکل رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پابندی نہ صرف ایران کی علاقائی سمندری حدود بلکہ بین الاقوامی پانیوں میں بھی نافذ کی جا رہی ہے اور اس کا اطلاق تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق جو بھی جہاز ایران کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کرے گا، اس کا تعاقب کیا جائے گا، جن میں مبینہ طور پر وہ خفیہ “ڈارک فلیٹ” جہاز بھی شامل ہیں جو ایرانی تیل کی ترسیل میں ملوث ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے یا جانے والے جہازوں کو روکا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر انہیں تحویل میں بھی لیا جا سکتا ہے۔
جنرل کین کے مطابق، ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اب تک 13 جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جبکہ کسی بھی جہاز کے خلاف عملی کارروائی کی نوبت نہیں آئی کیونکہ بیشتر نے امریکی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپسی کا فیصلہ کیا۔
اس موقع پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران میں جنگ بندی برقرار رکھنے کی خواہش بڑھ رہی ہے اور اسے “عقلمندی” کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی ممکنہ معاہدے کو قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم وہ زندہ ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے دیگر ممالک کے تعاون کا خیر مقدم کرے گا، تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔