Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ناگزیر تھا، وزیراعظم

افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ناگزیر تھا، وزیراعظم

خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں۔ شہباز شریف

13 سالہ دورِ اقتدار میں خیبرپختونخوا میں کتنی یونیورسٹیاں اور اسپتال بنائے گئے؟ 800 ارب روپے ملنے کے باوجود کتنے سیف سٹی منصوبے قائم ہوئے؟ شہباز شریف کے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب میں سوالات

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، جس کے نتیجے میں صوبے سمیت پورے ملک کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر حالات کے تحت کیا گیا، کیونکہ بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے اور اس کے عوام کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔

وزیراعظم نے یہ بات مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور پارٹی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ساتھ قائد محمد نواز شریف کے ایک کارکن کی حیثیت سے بھی ان سے مخاطب ہیں۔ خیبرپختونخوا پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں کے عوام غیور، بہادر، دلیر اور باوقار ہیں، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ملک کے دفاع، سلامتی اور استحکام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے خیبرپختونخوا میں جمہوری روایات کے فروغ اور سیاسی نظام کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد قائد محمد نواز شریف نے جمہوری اقدار کا احترام کرتے ہوئے صوبے میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ ان کے مطابق نواز شریف کی جمہوری سوچ، سیاسی فراخ دلی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام نے صوبے میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے برسراقتدار جماعت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس عرصے کے دوران بلند و بانگ دعوے تو بہت کیے گئے، لیکن عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ صوبے میں کتنی نئی یونیورسٹیاں اور اسپتال تعمیر کیے گئے۔ پشاور سے کوہستان، ہزارہ ڈویژن اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل موجود رہے، جبکہ عوامی خدمت، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم کی سیاست کو ترجیح دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں۔ عام شہریوں، پولیس اہلکاروں، پاک فوج کے جوانوں اور سیاسی رہنماؤں نے امن و امان کی بحالی اور ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ دہشت گردی کے خلاف اس طویل جنگ میں پاکستان کو بھاری جانی نقصان کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔

شہباز شریف نے کہا کہ محمد نواز شریف کے دور میں پوری قوم، سیاسی قیادت اور قومی اداروں نے متحد ہو کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ قومی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک سانحہ ہے، جس میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان ننھے شہدا کی قربانیاں آج بھی پوری قوم کے دلوں میں زندہ ہیں اور یہ سانحہ تاریخ میں ایک المناک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

وزیراعظم نے سیاسی احتجاج اور دھرنوں کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملک کو لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کا سامنا رہا۔ 2014 کے دھرنے کے باعث چین کے صدر شی جن پنگ کا دورۂ پاکستان مؤخر ہوا، تاہم 2015 میں ان کے دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان متعدد اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن سے پاک چین اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں شبانہ روز محنت کے نتیجے میں ملک سے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن ہوا اور توانائی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی گئی۔

شہباز شریف نے دہشت گردی کی دوبارہ بڑھتی ہوئی لہر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں بسایا گیا، جس کے بعد ملک کو ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے سنگین چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح سیاسی قیادت اور تمام قومی اداروں کو متحد ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی دعوت دی گئی تھی، لیکن ان کی بات پر توجہ نہیں دی گئی، جس کے باعث حالات مزید پیچیدہ ہوئے۔

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے مالی وسائل اور سکیورٹی اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبے کے لیے دہشت گردی سے متاثرہ ہونے کی بنیاد پر ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی رقم ملنے کے باوجود صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو کس حد تک جدید خطوط پر استوار کیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ صوبے میں پولیس کی تقریباً پانچ ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، حالانکہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر پولیس فورس کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت تھی۔ دستیاب مالی وسائل پولیس کو جدید اسلحہ، جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تربیت اور ضروری سہولیات فراہم کرنے پر خرچ ہونے چاہییں تھے تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر انداز میں کارروائیاں کر سکے۔

وزیراعظم نے ملکی معیشت کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر شبانہ روز محنت کی ہے۔ تاہم عالمی حالات اور خلیج میں جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس سے پاکستان سمیت متعدد ممالک کی معیشتیں متاثر ہوئیں۔ ان مشکلات کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔

انہوں نے بتایا کہ فیول سبسڈی اسکیم سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ غریب اور کم آمدنی والے طبقے کو معاشی دباؤ سے بچانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور ملکی معیشت کو عدم استحکام سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے اس انتہائی اقدام سے قبل مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نے مسلسل 48 گھنٹے مذاکرات کیے۔ مذاکرات کے دوران ایک مسودہ بھی تیار کیا گیا، تاہم اتفاق رائے کے بعد اس کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا، لیکن مطلوبہ منظوری نہ مل سکی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر ریاست، عوام، معیشت اور معاشرے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے دستیاب حالات اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی ترقی، خوشحالی، امن و امان کی بحالی اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لیے قربانیاں دی ہیں اور ان کی محرومیوں کا ازالہ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار امن کا قیام قومی ذمہ داری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:2 + 3 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More