قطر پر اسرائیل کا فضائی حملہ، حماس کی مرکزی قیادت کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
دوحہ میں حماس کے دفاتر ہیں اور متعدد رہنماء مذاکارات کے لئے موجود تھے
اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کیا ہے جس میں اسرائیل نے دعویٰ کیاہے کہ اس نے حماس ککی سینئر قیادت کو نشانہی بنایا ہے۔
دوحہ : اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر ایک غیر متوقع فضائی حملہ کیا ہے، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ نشانہ حماس کی اعلیٰ قیادت تھی۔ حملے کے وقت حماس کے کئی سینئر رہنما ایک اہم اجلاس میں شریک تھے، جس میں مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی تجاویز پر غور کیا جا رہا تھا۔
قطری دارالحکومت کے کتارا علاقے میں مقامی وقت کے مطابق سہ پہر کے وقت کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد فضا میں دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم نے دوحہ میں موجود حماس کی سینئر قیادت کو نشانہ بنایا ہے، جو اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی۔”
متضاد اطلاعات، حماس رہنما محفوظ یا شہید؟
حملے کے فوری بعد عرب میڈیا نے دعویٰ کیا کہ حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں، تاہم الجزیرہ نے حماس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اجلاس میں شریک تمام رہنما حملے میں محفوظ رہے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے اس وقت حملہ کیا جب حماس کا مذاکراتی وفد ایک اہم اجلاس میں شریک تھا۔ اس اجلاس میں امریکی جنگ بندی تجاویز پر مشاورت ہو رہی تھی۔ حماس ذرائع نے تصدیق کی کہ ازھر جبارین نامی فلسطینی رہنما حملے میں شہید ہو چکے ہیں۔
حملے سے قبل امریکہ کو آگاہ کیا گیا: اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ پر حملے سے قبل امریکہ کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ حملے میں جن رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں خالد مشعل، خلیل الحیہ، ظاہر جبارین، محمد درویش، حسام بدران، طاہر النونو اور موسیٰ ابو مرزوق شامل ہیں۔
قطر کا شدید ردعمل: "خودمختاری پر حملہ”
قطر کی حکومت نے اسرائیلی حملے کو "بزدلانہ کارروائی” قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا:
"یہ حملہ نہ صرف عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ قطر کی خودمختاری اور شہری سلامتی پر براہِ راست حملہ ہے۔ ہم اس غیر ذمہ دارانہ اقدام کے خلاف اعلیٰ سطح پر تحقیقات کر رہے ہیں اور اس کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔”
حماس کا ردعمل: "رہنما محفوظ رہے”
حماس کی جانب سے بھی باقاعدہ ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ:
"اسرائیلی حملے میں کوئی بھی سینئر رہنما شہید نہیں ہوا۔ تمام شریک ممبران بحفاظت محفوظ رہے ہیں۔ اسرائیل کا قاتلانہ حملہ ہماری قیادت کو خاموش کرنے کی ناکام کوشش ہے۔”
تجزیہ: خطے میں کشیدگی کی نئی لہر؟
اسرائیلی حملے نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ قطر اور اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے، اور اب براہِ راست حملے سے خلیجی ممالک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اگر یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ اسرائیلی طیارے واقعی قطر کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، تو یہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہوگا، جس کے سفارتی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔
