Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

یورپی جریدے کا کا افغانتسان میں دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور خطے کیلئے سنگین خطرہ قرار

یورپی جریدے کا کا افغانتسان میں دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور خطے کیلئے سنگین خطرہ قرار

مطابق افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہ نہ صرف مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ ان کی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جریدہ

یورپی جریدے یوریشیا ریویو نے اپنی تازہ رپورٹ میں افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہ نہ صرف مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ ان کی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جس سے روس اور وسطی ایشیائی ممالک کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روسی حکومت کو بھی افغانستان سے جڑے خطرات پر شدید تشویش ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے کہا کہ افغانستان میں داعش خراسان اور دیگر انتہاپسند گروہ اپنی موجودگی کو مسلسل وسعت دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے انسداد دہشتگردی کے اقدامات ناکافی ہیں، جبکہ عسکریت پسند خود کو متبادل قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی طرح سلامتی کونسل میں روس کے نمائندے برائے افغانستان سرگئی شائیگو نے خبردار کیا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پڑوسی ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں بیرونی مالی معاونت بھی حاصل ہے، جو خطے میں عدم استحکام میں اضافہ کر سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان عرصہ دراز سے افغان طالبان انتظامیہ پر زور دے رہا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان نے دوست ممالک کی ثالثی میں بھی یہی موقف اپنایا، تاہم افغان طالبان اس حوالے سے کسی بھی قسم کی تحریری ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

گزشتہ روز چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان نے طالبان حکومت کے سامنے یہ بات رکھ دی ہے کہ ان کے پاس صرف دو راستے ہیں "یا پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں یا خوارج (دہشتگرد گروہوں) کے ساتھ رہنے کا انتخاب کریں”۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More