Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

کلائمیٹ فنانسنگ عالمی چیلنج:ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر دی : وزیر خزانہ

 کلائمیٹ فنانسنگ عالمی چیلنج:ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر دی : وزیر خزانہ

ظفر مسعود، ڈاکٹر عابد و دیگر کاپائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد:(خاور عباس شاہ) وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے انتباہ کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کا دباوپاکستان کی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اپنی مالیاتی حکمتِ عملی کو تیزی سے سبز اور پائیدار سمت میں موڑ دے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے معاشی اور ماحولیاتی مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے موسمیاتی فنانس کی فوری طور پر موثر تنظیم ناگزیر ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیز رفتار اضافے کو قومی بقا کے لئے وجودی خطرہ قرار دیا۔ یہاں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کی سالانہ کانفرنس س کے دوران سرکلر اور موسمیاتی لچک دار جنوبی ایشیا کے لئے مالی وسائل کی فراہمیکے موضوع پر منعقدہ اعلی سطح کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی فنانسنگ ایک عالمی چیلنج ہے جو نہایت تیزی سے ابھر رہا ہے اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے مالیاتی، ریگولیٹری اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کو اس انداز سے ترتیب دے کہ ملک کی جانب پائیدار سرمایہ کاری راغب ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی نمو میں بہتری آ رہی ہے اور پاکستان بھی اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لئے ساختی اصلاحات لا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت مثبت پیش رفت ہے کیونکہ جدید مالیاتی طریقے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پاکستان کی سبز معیشت کی طرف منتقلی کو تیز کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت خوش آئند ہے، تاہم جغرافیائی کشیدگی اور عالمی غیر یقینی صورتِ حال نے چیلنجز میں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطے کے لئے ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی (VARA) قائم کر دی ہے جبکہ اس شعبے کی رہنمائی کیلئے پاکستان کرپٹو کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جلد باضابطہ قانون سازی متعارف کرائے گی کیونکہ ڈیجیٹل فنانس موسمیاتی سرمایہ کاری اور جدت کو فروغ دے سکتا ہے۔وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 1.3 ارب ڈالر کے موسمیاتی فنانس معاہدے پر دستخط کئے ہیںجبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے 500 ملین ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ورلڈ بینک کی دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت ہر سال 2 ارب ڈالر فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان جلد چین کی منڈی میں پانڈا بانڈز جاری کرے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت درست سمت میں معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ پاکستان کو 2047 میں اپنی صد سالہ تکمیل سے پہلے موسمیاتی اور آبادی کے چیلنجز کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کے لئے نئی ادارہ سازی یا آئینی ترامیم کی ضرورت نہیں، ہمیں صرف عزم اور تسلسل کی ضرورت ہے۔پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور بینک آف پنجاب کے سی ای او ظفر مسعود نے مشورہ دیا کہ جنوبی ایشیا میں موسمیاتی منصوبوں کے لئے ایک علاقائی کلائمٹ بینک قائم کیا جائے تاکہ خطے بھر کے لیے مالی وسائل کو موثر انداز سے منظم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں علاقائی سطح پر حل تلاش کرنے چاہئیں اور ماحول دوست سرمایہ کاری کیلئے خصوصی ترقیاتی مالیاتی اداروں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کیپیٹل مارکیٹ کے زیادہ فعال کردار کی ضرورت بھی اجاگر کی۔وزارتِ موسمیاتی تبدیلی میں کلائمٹ فنانس کے سربراہ ایڈیشنل سیکرٹری ذوالفقار یونس نے کہا کہ سرکلر معیشت پاکستان جیسے عبوری ملکوں کے لئے نہایت اہم ہے کیونکہ محدود وسائل کے دور میں وسائل کے ضیاع کا متحمل ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کے لئے علاقائی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔یو این ای پی کے چیف انوائرنمنٹل اکانومسٹ ڈاکٹر پشپم کمار نے کہا کہ جنوبی ایشیائی اور افریقی معیشتوں کو چاہیے کہ محدود عوامی وسائل کے بہتر استعمال کیلئے بلینڈڈ فنانس کو ترجیح دیں۔

انہوں نے مستند کاربن پرائسنگ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کو تخفیف اور موافقت کے لئیایک جامع قومی ایکشن پلان کے ذریعے راہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلینڈڈ فنانس کے لئے پالیسی ہم آہنگی اور مضبوط ریگولیٹری ڈھانچہ موجود نہیں۔ انہوں نے مذید کہا کہ اس مقصد کے لئے قومی سطح پر صلاحیت سازی ناگزیر ہے۔ڈاکٹر کمار نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ معیشتوں کی ترقی کا پیمانہ صرف GDP نہ ہو بلکہ قدرتی، انسانی اور پیداواری سرمایہ کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔جاپان کے انسٹیٹیوٹ فار گلوبل انوائرنمنٹل اسٹریٹجیز کے ڈاکٹر پریم کمارا جاگتھ نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو لکیری ترقیاتی ماڈل سے نکل کر ایک سرکلر معیشت اپنانی ہوگی جو وسائل کے موثر استعمال اور پائیدار طرزِ زندگی کو اہمیت دے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کیلئے بلینڈڈ فنانس بنیادی کردار ادا کرے گا۔نیپال سے ساوٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر پارس کھریال نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک بین الاقوامی میکانزمز سے اس لئے فائدہ نہیں اٹھا پاتے کیونکہ ان کے پاس قابلِ عمل منصوبے بنانے کی تکنیکی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ موسمیاتی ایکشن کی بنیاد ہی مالی وسائل پر ہے۔ انہوں نے ہا کہ پیرس معاہدے کے تحت ترقی یافتہ ممالک نے ایک ٹریلین ڈالر کا وعدہ کیا تھا مگر صرف 300 ارب صرف بلینڈڈ فنانس کی صورت میں، فراہم کئے گئے۔اجلاس کے دوران ایس ڈی پی آئی کی رپورٹ بھی جاری کی گئی جو اندرونی اور علاقائی وسائل کے موثر استعمال کے ذریعے ایک لچک دار معیشت کی تعمیر کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More