Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

کشمیری مہاجرین اور ہندوستان سے آئے مہاجرین،عوامی حقوق کی تحریک

سید نذیر گیلانی
تحریر: سید نذیر گیلانی 

 

کشمیری مہاجرین اور ہندوستان سے آئے مہاجرین،عوامی حقوق کی تحریک 

عوامی حقوق کے حصول کی تحریک کی حمایت ہر ایک انسان کا فرض ہے بشرطیکہ اس میں انسانی حقوق کے درج ذیل اصول کا لحاظ اور احترام شامل ہو:

HUMAN RIGHTS ARE FOR ALL.  KNOW THEM, DEMAND THEM AND DEFEND THEM.

آزاد کشمیر میں انسانی حقوق کی ایک جاندار تحریک چلی۔ ہم نے ان کے چارٹر آف ڈیمانڈز کے 38 مطالبات میں 37 مطالبات کی بھر پور حمائیت کی ہے۔ ممکن ہے کہ اگر یہ مہاجرین سے متعلق اپنے مطالبے کو درست انداز میں فریم کرتے ،اس کی حمائیت میں کوئی مشکل نہیں آتی۔

برطانیہ میں 1968 میں کنزرویٹو پارٹی کے  Enoch Powell نے نسلی بنیادوں پر دولت مشترکہ سے آئے اور برطانیہ میں آباد immigrants کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائی۔Immigrants اور ان کے آنے کو اپنے حقوق اور demographic change کے لئے ایک خطرہ قرار دیا۔

اس نے مشہور زمانہ تقریر Rivers of Blood کی۔ اس تقریر کے دوسرے دن کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ Edward Heath نے اپنی  شیڈو کیبنٹ سے نکال دیا۔ پاول Race Relations Bill اور Anti Discrimination Bill  کا سخت مخالفت تھا۔ لیکن یہ دونوں Bill پارلیمنٹ نے پاس کردئے۔

اینک پاول کے کامن ویلتھ ممالک سے آئے immigrants کے خلاف بیانیہ کو مقامی انگریزوں کی 67 سے لے کر 82 فیصد حمائیت حاصل تھی۔ اس کے باوجود انصاف اور قانون کا پہیہ جام نہیں ہوا بلکہ Immigrants کے حقوق کے تحفظ کے لئے Race Relations Bill اور Anti Discrimination Bill پارلیمنٹ میں پاس ہوئے۔

اینک پاول فروری 1998 میں فوت ہوئے۔ آج برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کشمیری نژاد وزیر،  ممبران پارلیمنٹ،  ممبران ہاوس آف لارڈز موجود ہونے کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ایک بھارتی نژاد برطانیہ کا وزیراعظم بھی منتخب ہوا۔

ایک طرف قانون اور انصاف تھا اور دوسری طرف Enoch Powell , اس کا بیانیہ اور 82 فیصد عوامی حمائیت۔

آزاد کشمیر میں 12 مہاجر ارکان اسمبلی کی کارکردگی کو وجہ بنا کر 25 لاکھ سے 30 لاکھ کشمیری مہاجرین زیر بحث آرہے  ہیں۔ تذکرے اور اشارے معتبر اور احسن زبان میں نہیں ہورہے۔

برطانیہ کا Enoch Powell جنگ عظیم دوئیم میں فوج میں بریگیڈیئر تھا۔ مصنف بھی تھا اور شاعر بھی۔ اچھے اسلوب کی اسے پہچان تھی۔

 

مہاجر دو قسم کے ہیں۔

وہ مہاجرین جو تقسیم ہند کے وقت دونوں Dominions میں منتقل ہوئے۔ یہ تقسیم ہند یعنی lawful partition کا نتیجہ تھے۔

دوسرے مہاجرین armed aggression,  occupation  اور denial of self-determination  کا نتیجہ ہیں۔

پہلے مہاجر  جن نے انڈیا اور پاکستان کے مابین انتخاب کیا، ایک acknowledged and complete process of Sate succession کا حصہ ہیں۔ ان کی migration final اور lawful تھی۔ ان کے ساتھ ان کی Sovereignty اور Citizenship بھی ٹرانسفر ہوئی۔  ان کا،refugee status,  transitional تھا اور یہ repatriation, resettlement یا naturalisation کے بعد ختم ہوا۔

لیکن کشمیری ریفیوجیز کسی lawful territorial division کا نتیجہ نہیں ہیں۔ وہ ایک unresolved international dispute. جس کا اقوام متحدہ کی نگرانی میں فیصلہ ہونا باقی ہے، کے متاثرین victims ہیں۔ ان کی displacement کی وجہ foreign occupation اور armed conflict ہے۔ ان کا  اقوام متحدہ کی نگرانی میں ووٹ ہونے تک continuing right to return محفوظ ہے۔

ان کشمیر مہاجرین(ریاستی ) کا refugee status وقت گزرنے یا نئی پشت کی وجہ تبدیل نہیں ہوتا، جب تک cause of displacement remains unresolved.

یہ لوگ stateless migrants نہیں ہیں اور نہ ہی rehabilitated citizens of another State ہیں۔ یہ ریاست جموں وکشمیر کے شہری ہیں اور temporarily displaced and hosted in Pakistan ہیں۔ انہیں آئین کے آرٹیکل 257 اور کشمیر پر UN framework کا تحفظ حاصل ہے۔

یہ دلیل کہ دوسری، تیسری یا آگے آنے والی جنریشن can no longer be considered refugees, قانونی اور اخلاقی طور درست نہیں۔

The refugee status is not a matter of time but of unfinished justice.

میری عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ، وہ لوکل مہاجر تفریق اور تشریح سے پرہیز کریں اور خود کو عوامی حقوق کے بیانئے تک ہی محدود رکھیں۔

حکومت آزاد کشمیر کی بنیاد ہی اقوام متحدہ کے فریم ورک کی تعمیل ہے اور حکومت پاکستان کی آزاد کشمیر میں موجودگی اور اختیارات کا source بھی UNCIP Resolutions کا فریم ورک ہے۔۔ مہاجرین کے حقوق سے متعلق فیصلے، اس فریم ورک سے ہٹ کر اور مہاجرین کی شنوائی کے بغیر کوئی قانونی اور اخلاقی حیثت نہیں رکھتے۔

آزاد کشمیر میں موجود 12 مہاجرین ارکان اسمبلی کے بارے میں عوامی ایکشن کمیٹی کا اعتراض ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگ ہیں اور انہیں لمحہ آزمائش اور ضرورت کے لئے Reserve میں رکھا جاتا ہے۔ ان میں اچھے لوگ بھی ہوں گے۔ لیکن ان کا 30 لاکھ مہاجرین کے ساتھ متوقع تعلق نہیں۔ ان کا کشمیر کیس کی جیورسپروڈنس کی پیروی میں بھی کوئی کردار نہیں۔ ان کااسمبلی کے اندر بھی کوئی substantive رول نہیں رہا ہے۔۔

ان 12 ارکان اسمبلی کے مبینہ گناہوں کے ذمہ دار 30 لاکھ لوگ نہیں۔ یہ گناہ مل جل کر سرزد ہوئے ہیں۔ یہ 30 لاکھ مہاجرین ایک ،juridical bridge ہیں جو مقبوضہ کشمیر کو آزاد کشمیر کے ساتھ آئینی اور قانونی طور ملاتے ہیں۔ اور یہ انٹرنیشنل لیگل process کی اہم کڑی ہیں۔

میں خود ایک مہاجر ہوں۔ میں نہ ان 12 اسمبلی سیٹس اور نہ ہی مہاجر کوٹے کا Beneficiary ہوں۔ لیکن میں حقوق کی Jurisprudence کا حامی ہوں اور عوامی ایکشن کمیٹی کی مہاجرین کی تشریح سے متفق نہیں۔ اپنے اپنے موقف کا دفاع کسی فورم پر کرنا مناسب ہے۔ اب آپ نے مہاجرین کا معاملہ ایک کمیٹی کے سپرد کیا ہے۔ اس لئے آئندہ مہاجرین کا معاملہ پبلک جلسوں میں مناسب یا نامناسب انداز میں زیر بحث نہ لائیں۔ یہ معاملہ آپ نے ایک تیسرے فریق کے سپرد کیا ہے۔

ہم آپ کی جدوجہد کے 37 مطالبات کے اسی طرح حامی ہیں،  جس طرح 3 1کتوبر سے پہلے تھے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More