کشتیوں کے حملوں کے بعد امریکہ میکسیکو کے منشیات کے کارٹل پر حملہ کر سکتا ہے، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاطینی امریکی منشیات فروش کارٹیلز کے خلاف اپنی غیر معمولی کارروائیوں کو میکسیکو تک وسعت دینے کا عندیہ دیا ہے، جیسا کہ رائٹرز اور این بی سی نے رپورٹ کیا ہے۔
ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیا میں منشیات روکنے کے لیے میکسیکو میں حملے کر سکتا ہوں؟ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ میں میکسیکو سے بات کر رہا ہوں۔ وہ جانتے ہیں کہ میرا مؤقف کیا ہے۔ ہم منشیات کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو کھو رہے ہیں۔ ہم نے سمندری راستوں کو روک دیا ہے، لیکن ہمیں ہر راستے کا علم ہے۔
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایسے حملے کب یا کیسے کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام پہلے ہی امریکہ کی جانب سے ان کے ملک کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی کارروائی کی مخالفت کر چکی ہیں۔
یونیورسٹی آف میلبورن میں لاطینی امریکی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جیف گارمنی نے الجزیرہ کو بتایا کہ میکسیکو سٹی کی مخالفت شاید زیادہ اثر نہ ڈال سکے۔ ان کے مطابق:
"اس طرح کی کارروائیوں کے راستے میں کئی قانونی رکاوٹیں ہیں، جن میں سے کچھ ملکی قوانین سے متعلق ہیں اور کچھ بین الاقوامی قوانین سے۔ بین الاقوامی سفارتی آداب بھی موجود ہیں، جنہیں عام طور پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک خیال میں رکھتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا:
"لیکن ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں ایسی کوئی علامت نظر نہیں آتی کہ وہ ان قوانین یا پروٹوکولز پر عمل کریں گے۔ اگر وہ واقعی میکسیکو میں حملے کرنا چاہیں، تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ صدر شینبام کی منظوری کا انتظار کریں گے۔”
ٹرمپ کے یہ بیانات این بی سی کی اس رپورٹ کے دو ہفتے بعد سامنے آئے ہیں جس میں دو سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ وائٹ ہاؤس میکسیکو میں زمینی کارروائی کے ابتدائی منصوبے تیار کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر چلائی جائے گی، جس کا مرکز منشیات کی لیبارٹریوں اور کارٹیلز کے خلاف ڈرون حملے ہوں گے۔
