کسان ملکی معیشت، غذائی تحفظ اور دیہی ترقی کے ضامن ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں لاکھوں خاندانوں کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے، سردار ایاز صادق
کسانوں کے حقوق کے تحفظ، منڈیوں تک بہتر رسائی اور زرعی ویلیو چین کی مضبوطی کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا، بیان
اسلام آباد :(خاور عباس شاہ) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ کسان پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون ہیں، جن کی انتھک محنت اور قربانیوں کے بغیر قومی غذائی تحفظ، زرعی خودکفالت اور دیہی ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ قومی کسان ڈے کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ کسان دن رات محنت کر کے قوم کے لیے خوراک مہیا کرتے ہیں اور ملک کے معاشی استحکام، برآمدات اور دیہی روزگار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں لاکھوں خاندانوں کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کسانوں کو جدید زرعی سہولیات، معیاری بیج، کھاد کی بروقت فراہمی، پانی کی منصفانہ تقسیم، مؤثر زرعی توسیعی خدمات اور جدید تحقیق تک رسائی فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ، لاگت میں کمی اور کسانوں کی آمدن میں بہتری لائی جا سکے۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر متوقع بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور بڑھتے ہوئے زرعی اخراجات کسانوں کے لیے سنگین چیلنجز بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع اور مؤثر پالیسی سازی، فصل بیمہ کے نظام کا فروغ، کسان دوست قرضہ اسکیمیں، قابلِ استطاعت توانائی، اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کو ناگزیر بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان کسانوں کے مسائل کے حل، زرعی شعبے کی پائیدار ترقی اور دیہی خوشحالی کے لیے قانون سازی، نگرانی اور مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ، منڈیوں تک بہتر رسائی اور زرعی ویلیو چین کی مضبوطی کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کسان کی خوشحالی دراصل قومی خوشحالی کی ضمانت ہے، اور کسان کو بااختیار بنا کر ہی پاکستان کو ایک مضبوط، خودکفیل اور خوشحال ریاست بنایا جا سکتا ہے۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ نے قومی کسان ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ کسانوں کی فلاح و بہبود، زرعی ترقی اور دیہی معیشت کا استحکام پاکستان کی مجموعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمتِ عملی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور کسان دوست اقدامات پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمان کسانوں کے حقوق کے تحفظ اور زرعی شعبے کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار پوری سنجیدگی سے جاری رکھے گی۔
