Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان نہ تو ابراہام معاہدے کا حصہ بنے گا اور نہ ہی پاکستان نے کسی عالمی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نہ تو ابراہام معاہدے کا حصہ بنے گا اور نہ ہی پاکستان نے کسی عالمی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا بے بنیاد اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ تو ابراہام معاہدے کا حصہ بنے گا اور نہ ہی پاکستان نے کسی بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ کیا ہے۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ صدر مملکت رواں ہفتے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حال ہی میں ڈیوس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ واپسی پر انہوں نے ابوظہبی میں اسٹاپ اوور کے دوران اتصالات اور پی ٹی سی ایل کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ پر زور دیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس میں خلوصِ نیت کے تحت شمولیت اختیار کی ہے۔ پاکستان سمیت سات اہم مسلم ممالک—سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر—اس پلیٹ فارم کا حصہ ہیں۔ بورڈ آف پیس کے ذریعے پاکستان غزہ میں جنگ بندی کے استحکام، تعمیرِ نو میں معاونت اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس کا ابراہام معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون پلیٹ فارم ہے، جسے سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری حاصل ہے اور جو غزہ اور مسئلہ فلسطین کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے غزہ کے عوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہیں اور اقوام متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہی ہیں، ایسے میں بورڈ آف پیس ایک اجتماعی اور مؤثر کوشش ہے۔

علاقائی امور پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں ہے تاہم بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کسی معاہدے پر تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ڈی آئی خان حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان حملہ آوروں کی شمولیت ایک تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے اور یہ معاملہ دوطرفہ سمیت دیگر متعلقہ فورمز پر اٹھایا جا چکا ہے۔

داخلی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دی جانے والی سزا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان مزاری کیس میں جج مجوکہ کے ایران سے متعلق ریمارکس ذاتی رائے ہیں اور یہ پاکستان کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔ دفتر خارجہ نے جج کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار بھی کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More