Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان میں دہشت گردی سے منسلک تشدد کی وارداتوں میں تیسری سہ ماہی کے دوران نمایاں اضافہ

پاکستان میں دہشت گردی سے منسلک تشدد کی وارداتوں میں تیسری سہ ماہی کے دوران نمایاں اضافہ

329پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 901اموات،599افراد زخمی، جن میں دہشت گردانہ حملے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں شامل، رپورٹ

اسلام آباد:  اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس)نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں اضافے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شدت کے باعث ملک میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں اموات میں 46فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 329پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 901اموات ہوئیں،جبکہ 599افراد زخمی ہوئے، جن میں دہشت گردانہ حملے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سال (2025)ممکنہ طور پر 2024سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوگا، جبکہ 2024پہلے ہی گزشتہ دس سالوں میں سب سے زیادہ پرتشدد سال رہا تھا۔سی آر ایس ایس کے مطابق یہ اضافہ دہشت گردانہ تشدد میں شدت اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے وسیع تر دائرے کو ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ابھی ایک سہ ماہی باقی ہے، لیکن 2025گزشتہ سال کے جانی نقصان کو پیچھے چھوڑنے کے راستے پر گامزن ہے،اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2025گزشتہ دہائی کے سب سے زیادہ خونریز سالوں میں شمار ہوگا۔تھنک ٹینک کے مطابق 2025کی پہلی تین سہ ماہیوں میں 2414اموات ہوئیں، جو 2024میں رپورٹ کی گئی 2546اموات کے قریب ہیں۔

 رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ جنوری سے ستمبر 2024کے دوران 1527اموات ہوئیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران 2025میں 2414اموات ریکارڈ کی گئیں، یعنی 58فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ البتہ اموات کا ماخذ بدل گیا ہے،2024میں سیکیورٹی آپریشنز کے نتیجے میں 505ہلاکتیں (کل کا 33فیصد)ہوئیں،جبکہ دہشت گردانہ حملوں میں 1022افراد جاں بحق ہوئے۔

 رپورٹ میں کہا گیاہے کہ 2025میں سیکیورٹی آپریشنز سے 1265ہلاکتیں ہوئیں جو کل اموات کا نصف سے زائد ہیں،یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ ریاستی ردعمل مزید سخت ہوگیا ہے اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More