پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 304.5 ملین ڈالر کے دو اہم موسمیاتی منصوبوں پر دستخط
سندھ کوسٹل ریزیلینس منصوبہ مربوط آبی وسائل اور سیلابی خطرات سے بچاؤ کے انتظام کو فروغ دے گا
اسلام آباد: حکومت پاکستان اورایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان 304.5 ملین ڈالرمالیت کے دو بڑے موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق منصوبوں پر دستخط ہوگئے۔
وزارت اقتصادی امور ڈویژن کی طرف جاری اعلامیہ کے مطابق ان منصوبوں میں 180.5 ملین ڈالر مالیت کا سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پراجیکٹ اور پنجاب کلائمٹ ریزیلینٹ اور 124 ملین امریکی ڈالر مالیت کا لو کاربن زرعی مشینری منصوبہ شامل ہے۔ سیکرٹری وزارت اقتصادی امور ڈویژن محمد حمیر کریم نے اس موقع پربتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور پائیدار زرعی ترقی کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اے ڈی بی کے تعاون سے دو بڑے قومی منصوبوں پر دستخط کر دیئے گئے ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف پاکستان کے ساحلی اور زرعی علاقوں کو موسمیاتی اثرات سے محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے بلکہ معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور شمولیتی ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی نمایاں معاون ثابت ہوں گے۔
انہوں نے اے ڈی بی کی جانب سے قابل اعتماد ترقیاتی شراکت دار کے طور پر پاکستان کے ساتھ مسلسل تعاون پر دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کوسٹل ریزیلینس منصوبہ مربوط آبی وسائل اور سیلابی خطرات سے بچاؤ کے انتظام کو فروغ دے گا، اس سے قدرتی بنیادوں پر ساحلی حفاظتی اقدامات کی بحالی میں مدد ملے گی اور سٹریٹجک ایکشن پلاننگ کے لیے ادارہ جاتی اور کمیونٹی سطح کی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا۔انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ 140.5 ملین ڈالر(جس میں 140 ملین ڈالر قرض اور 0.5 ملین ڈالر تکنیکی معاونت گرانٹ شامل ہیں)، 40 ملین امریکی ڈالر گرین کلائنٹ فنڈسے اور 20 ملین امریکی ڈالر حکومت سندھ کی جانب سے بطور کاؤنٹرپارٹ فنڈنگ فراہم کیے جانے سے مکمل ہوگا اس منصوبے سے ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کے اضلاع میں 38 لاکھ سے زائد افراد براہ راست مستفید ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کلائمٹ ریزیلینٹ اور لو کاربن زرعی مشینری منصوبہ پنجاب کے 30 اضلاع میں زرعی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلی کو بہتر بنائیگا 129 ملین امریکی ڈالر لاگت کا یہ منصوبہ 120 ملین ڈالر اے ڈی بی قرض، 4 ملین ڈالر اے ڈی بی گرانٹ اور 5 ملین ڈالر حکومت پنجاب کی کاؤنٹرپارٹ فنڈنگ سے مالی اعانت پائے گا۔ اس منصوبے کے تحت چھوٹے کسانوں کی موسمیاتی سمارٹ مشینری تک رسائی بہتر بنائی جائے گی، فصلوں کی باقیات جلانے میں کمی کے لیے سرکلر ایگریکلچر کے طریقے متعارف کرائے جائیں گے، جانچ اور تربیتی سہولیات قائم کی جائیں گی اور 15 ہزار خواتین کو مہارتوں کی تربیت اور متبادل روزگار کے مواقع کے ذریعے بااختیار بنایا جائے گا۔سیکرٹری نے زور دیا کہ دونوں منصوبے نوعیت کے اعتبار سے بہت اہم ہیں،سندھ کوسٹل ریزیلینس منصوبہ سندھ کے کمزور ساحلی علاقے میں روزگار، غذائی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مدد دے گا جبکہ پنجاب کا مشینری منصوبہ پائیدار، کم کاربن زرعی ترقی اور شمولیتی ترقی کو فروغ دے گا۔
اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فان نے ان اقدامات کے لیے حکومت پاکستان کے مضبوط عزم کو سراہا۔ انہوں نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے اور ساحلی آبادیوں کے تحفظ میں سندھ کوسٹل ریزیلینس منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور پنجاب مشینری منصوبے کو زراعت کی جدید کاری اور اخراج میں کمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ فریقین نے ان منصوبوں کی بروقت اور موثر تکمیل کے لیے فراہم کردہ مالی وسائل کے بہترین استعمال کے عزم کا اعادہ کیا۔
