Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان امریکا کے ساتھ ٹریڈ چاہتا ہے ایڈ نہیں، اسحاق ڈار

پاکستان امریکا کے ساتھ ٹریڈ چاہتا ہے ایڈ نہیں، اسحاق ڈار

دنیا کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کا سامانا ہے ، مائب وزیراعظم

نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ ٹریڈ چاہتا ہے اینڈ نہیں امید ظاہر کی کہ ہفتنوں میں نہیں دنوں میں ٹریڈ ڈیل ہو جائے کی پاکستان کی سب سے زیادہ برآمدات امریکا جاتی ہیں پاکستان امریکی کاٹن کا دوسرا بڑا خریدار ہے ۔

اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات مفید رہی، ملاقات میں باہمی شراکت داری پر زور دیا۔

امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے خطاب میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تناؤ نہیں چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ایٹمی ملک ہے دنیا کی معیشت اس وقت دباؤ اور اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کا سامانا ہے  ۔

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی ہے، پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے، حکومت سنبھالنے کے بعد معاشی چیلنجز کا سامنا رہا۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے معاشی چیلنجز پر کامیابی سے قابو پایا، پاکستان صحت، تعلیم دیگر شعبوں میں بہترین کام کر رہا ہے، دنیا کو اس وقت موسمیاتی تبدیلی کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کثیر الجہتی ہیں، امریکا کے ساتھ بات چیت جاری ہے، جلد تجارتی معاہدہ ہو جائے گا۔

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بیت المقدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے، غزہ کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، غزہ میں فوری طور پر سیز فائر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے پاک بھارت جنگ کے دوران سیز فائر میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے، ہم نے بھارت کے خلاف اپنے دفاع میں کارروائی کی، دونوں ملکوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر اہم تنازع ہے۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ افغان عبوری حکومت سے مطالبہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے۔

نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمارا خطہ تنازعات کے ہوتےہوئے ترقی نہیں کر سکتا، دو روز قبل سلامتی کونسل کے اجلاس میں تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا تھا اور سلامتی کونسل میں اس پر غیرمعمولی طور پر اتفاق کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع ہے، سلامتی کونسل کی قراردادیں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی توثیق کرتی ہیں لیکن بھارت نے 7 دہائیوں سے اس حق کو دبا کر رکھا ہوا ہے اور قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے اگست 2019 میں یک طرفہ اقدامات کیے جو یک طرفہ اور غیرقانونی تھے، بھارت کے اقدامات منتازع خطے کے جغرافیے کو تبدیل کرنے کے لیے ہیں، جو بین الاقوامی قانون بشمول جنیوا کنونش کی خلاف ورزی ہے اور یہ کسی کو بھی قابل قبول نہیں ہے جو انصاف اور امن پر یقین رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت دنیا کو گمراہ اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے دہشت گردی کا راگ الاپتا ہے اور یہی اقدام رواں برس 22 اپریل کو کیا، بھارت نے پہلگام واقعے پر پاکستان پر الزامات عائد کیے۔

انہوں نے کہا کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی روایتی جارحیت اور باہمی عدم اعتماد تھا، جس سے خطہ تباہی کے دہانے پر پہنچا لیکن بیک چینل سفارت کاری، بین الاقومی ثالثی بالخصوص امریکا اور دوست ملکوں کی مصالحت نے کشیدگی ختم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری اسٹیٹ روبیو کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں جبکہ ہمارے پڑوسی اس کے برعکس سیاسی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں یہ عارضی اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہہم امن پر یقین رکھتے ہیں اور ہم نے کبھی بھی کشیدگی میں پہل نہیں کی بلکہ فضا اور زمین دونوں میدانوں میں جواب اقوام متحدہ کے چارٹر 51 کے تحت اپنے دفاع کے طور پر دیا لیکن ہم قسمت اور آخری وقت میں مداخلت پر انحصار نہیں کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جنوبی ایشیا میں پائیدار امن درکار ہے اور اس کےلیے دونوں ممالک تعمیری اور مستحکم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے کسی بھی پڑوسی کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا ہے، ہم حریف کے طور پر نہیں بلکہ رابطہ کاری کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں جس کی تازہ مثال 17 جولائی کے اقدام کی ہے جہاں دو سال کی کوششوں کے بعد میں نے کابل کا دورہ کیا جہاں ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ریلوے کے معاہدے ٹرانس افغان ریلوے پر دستخط ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن بھارت سمیت تمام فریقین کے رویوں پر مںحصر ہے تاکہ بین الاقوامی اقدار کے تحت تنازعات پر مذاکرات ہوں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کا خطے میں بالاتری قائم کرنے کی کوششیں 7 اور 10 مئی کے درمیان دفن کردی گئی ہیں، بالاتری، تسلط اور نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر کے دعوے ختم ہوچکے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More