Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

وزیراعلیٰ پنجاب کا پروجیکٹ ڈائریکٹر، منیجراور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کرنے کا حکم

وزیراعلیٰ پنجاب کا پروجیکٹ ڈائریکٹر، منیجراور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کرنے کا حکم

بھاٹی گیٹ واقعے اور قتل میں فرق نہیں، متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے دلوائے جائیں گے، وزیراعلی پنجاب مریم نواز

 لاہور: (اسپیشل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پروجیکٹ ڈائریکٹر،منیجراور کنٹریکٹر کو فوری گرفتار کرنے کا حکم ۔مریم نواز نے کہا کہ ڈی جی ایل ڈی اے اور ایم ڈی واسا بھی واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد حسین ، واسا کے عثمان بابر کو فوری برخاست کر دیں۔ان دونوں افسران کو کوئی نوکری نہیں ملنی چاہیے تاکہ ان کو پتا لگے کہ کتنی بڑی مجرمانہ غفلت کی ہے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد حسین، واسا کے عثمان کو بابر کو بھی گرفتار کیا جائے۔ لاہور بھاٹی گیٹ کے قریب ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت لاہور میں اعلیٰ سطح اجلاس ہوا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کو اعلیٰ حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ واقعہ کی جگہ پر تعمیراتی کام جاری تھا۔ماں بیٹی لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے پاس رہ رہے تھے ۔بھاٹی دروازے پر پمپنگ اسٹیشن کے ساتھ واقعہ پیش آیا، 24 سالہ سعدیہ بچی کے ساتھ واپس رکشے پر سوار ہونے کیلئے آئی،جس جگہ مین ہول تھا وہاں اندھیرا بھی تھا جس وجہ سے خاتون اور بچی گری ہے۔ خاتون کے گرتے وقت رش کی وجہ سے کسی نے آواز نہیں سنی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ واقعے کی جگہ پارٹیشن، گرین کپڑا یا کوئی اور چیز نہیں لگائی ہوئی تھی۔واقعے کی جگہ کھدائی کی ہوئی تھی، وہاں رکشہ پارک تھا۔رکشے پر سوار ہوتے وقت ماںاور بیٹی مین ہول میں گرے۔

بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ کھدائی کی جگہ بند ہونے کی بجائے وہاں رکشہ پارکنگ کیلئے ٹوکن دیا گیا، یہ واحد کھلا مین ہول نہیں تھا دیگر مین ہول بھی کھلے ہوئے تھے۔  اہور واقعے پر اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے کہاکہ نااہلی چھپانے کیلئے مجرمانہ کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں۔ورثاء کو تحقیقات کیلئے تھانے میں بند کرنا بہت بڑی زیادتی تھی۔ تعمیراتی کام عوام کی فلاح وبہبود کیلئے ہو رہے ہیں، انہیں مارنے کیلئے نہیں۔پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا کہاں ہیںکیا انہیں گرفتار کیا ،کمشنر، ایم ڈی واسا، ڈی جی ایل ڈی اے مجھے جواب دیں۔ مریم نواز نے کہا کہ اب مزید آپ کس غفلت کا انتظار کررہے ہیں، پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا کا نام لکھا ہے لیکن پراجیکٹ منیجر کا نام کیوں نہیں لکھا، مجرمانہ غفلت پر اب تک 6 نام تو میرے پاس آچکے ہیں، آدھا درجن انچارج ہے اور دیکھیں انہوں نے کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کے کمشنر، ڈی سی اور اے سی کا اتنا ہی قصور ہے جتنا دوسروں کا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ کسی کو پرواہ نہیں تھی مین ہول پر ڈھکن نہیں ہے۔ہمارے معذرت کرنے سے مرے ہوئے لوگ واپس تو نہیں آسکتے۔بھاٹی گیٹ واقعے اور قتل میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ضلعی انتظامیہ بہانہ نہیں کرسکتی کہ وہ فلاں چیز میں مصروف تھے۔ہر چیز کا اپنا نظام ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا ایک چیز کریں اور دیگر چیزوںکو چھوڑ دیں۔سیفٹی کیمرے ہیں پھر اتنی بڑی غفلت کیسے؟ متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سے 1 کروڑ دلوایا جائے، لاہور جیسے شہر میں ایسا واقعہ قابل قبول نہیں۔اس بات کو یقینی بنائیں کہ گٹر پر ڈھکن ہونے چاہئیں، صرف جھاڑیاں نہ لگائیں۔

مریم نواز نے کہا کہ جہاں اتنے لوگ آتے ہوں وہاں تعمیراتی کام کے دوران مجرمانہ غفلت کی گئی۔ اصولاً تو ڈی سی، اے سی اور اسسٹنٹ کمشنر کو سزا ملنی چاہیے۔جنہوں نے اس جگہ کو کھلا چھوڑا کیا ان کے گھر بچے نہیں، کام ختم ہوچکا تھا تو سائٹ پر موجود افراد کو جگہ بند کر کے جانا چاہیے تھا، اللہ کو حاضر ناظر جان کر بتائیں کہ ذمہ داری کس کی تھی؟مریم نواز نے کہا کہ کنٹریکٹر نیسپاک اور ایل ڈی اے کی غفلت سامنے آئی ہے۔خاتون نالے میں کئی کلومیٹر دور چلی گئی لاہور انتظامیہ کہتی رہی نالے میں کوئی گرا ہی نہیں۔ کسی نے وہاں پارکنگ بنا لی اور پیسے لے رہا ہے، انتظامیہ کو پتا ہی نہیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے تعمیراتی جگہ کا وزٹ ہی نہیں کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More