مستقبل اب عوام کے ہاتھ میں ہے، نیویارک میں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں،ظہران ممدانی کا مئیر کا لیکشن جیتنے کے بعد پہلا خطاب
نیویارک: مسلم امیدوار ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر منتخب ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیو یارک شہر کے انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار ظہران ممدانی کامیاب ہوگئے ہیں۔ مسلم امیدوار ظہران ممدانی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود آزاد امیدوار اینڈریو کومو کو شکست دی۔ ظہران ممدانی نے 486741جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار نیڈریو کومو نے 396177ووٹ لئے، ری پبلکن کے کرٹس سلوا صرف 79281 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے،امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک میئر کے انتخابات میں نئی تاریخ رقم ہوگئی جہاں 2001 کے بعد میئر کے انتخابات میں سب سے زیادہ ٹرن آئوٹ ریکارڈ کیا گیا۔
اپنے پہلے خطاب میں نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی نے جیت کے بعد پہلے خطاب میں کہا کہ آج کے الیکشن نے ثابت کر دیا کہ امید اب بھی زندہ ہے، آج خوف کی شکست اور امید کی جیت ہوئی ہے، نیو یارک میں مورثی سیاست کا خاتمہ کر دیا ہے، یہ شہر آپ کا ہے، جمہوریت بھی آپ کی ہے اور مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ظہران ممدانی نے نیویارک کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیو یارک کے عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا ہے، ٹیکسی ڈرائیورز، نرسنگ ورکنگ کلاس کا شکریہ، یہ شہر آپ کا ہے، جمہوریت بھی آپ کی ہے، ہم لیڈر شپ کے نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں، ایک ہزار سے زائد رضاکاروں کے مہم میں حصہ لینے پر شکرگزار ہوا، یہ سب آپ لوگوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔
نو منتخب میئر نیویارک سٹی ظہران ممدانی کا کہنا تھا مجھے اپنا آپ ثابت کرنے کا موقع دینے کے لیے شکریہ، ہم آپ کے لیے لڑیں گے کیوں کہ ہم آپ میں سے ہیں، سکیورٹی اور انصاف سب کو فراہم کیا جائے گا، آپ سب کی جدوجہد ہماری جدوجہد ہے۔
ظہران ممدانی کا کہنا تھا نیویارک میں اسلامو فوبیا کی کوئی گنجائش نہیں ہے، میں ایک مسلمان اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہوں، یکم جنوری 2026 سے ہم ایک ایسی شہری حکومت بنائیں گے جو سب کیلئے فائدے مند ہوگی۔
امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے ظہران ممدانی کا کہنا تھا ڈونلڈ ٹرمپ مجھے پتا ہے آپ دیکھ رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ میں آپ کو 4 جملے کہوں گا، “Turn The Volume Up”۔
انہوں نے کہا کہ ہم مزدوروں کے حقوق کے لیے یونینز کے ساتھ کھڑیں ہوں گے، نیویارک سٹی کو تارکین وطن نے مضبوط کیا ہے، بدعنوانی کے اس کلچر کا خاتمہ کریں گے جس میں ٹرمپ جیسے ارب پتی ٹیکس سے بچتے ہیں۔
میئر منتخب ہونے کے بعد اپنے خطاب میں زہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک کے محنت کش طبقے نے تمام رکاوٹوں کے باوجود تبدیلی ممکن بنادی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے ثابت کردیا کہ مستقبل اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
زہران ممدانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جیت نیویارک کے محنت کشوں، تارکین وطن اور نچلے طبقے کی ہے جن کے ہاتھوں میں کبھی اقتدار نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عام شہریوں کو بھی فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے موروثی سیاست کو ختم کردیا ہے۔ آج سے میں اینڈریو کومو کا نام نہیں لوں گا۔‘‘
زہران ممدانی نے وعدہ کیا کہ وہ ایک ایسا شہر بنائیں گے جہاں زندگی کے اخراجات قابو میں ہوں، تعلیم و صحت سب کے لیے میسر ہو، اور عوام کے مسائل سننے والی حکومت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نیویارک پورے امریکا کے لیے ایک مثال ثابت ہوگا۔
انہوں نے اپنی تقریر میں مختلف کمیونٹیز کا شکریہ ادا کیا، جن میں یمنی دکاندار، افریقی نژاد ٹیکسی ڈرائیورز، اور جنوبی ایشیائی تارکین وطن شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ جیت اس بات کی علامت ہے کہ جب سیاست عوام سے سچائی اور عزت سے بات کرتی ہے، تو ایک نئی قیادت جنم لیتی ہے۔‘‘
زہران ممدانی نے کہا کہ ان کا وژن ایک ایسے نیویارک کا ہے جہاں کرایہ داروں کو تحفظ حاصل ہو، بس سروس مفت ہو، اور ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ بدعنوان مکان مالکان اور ٹیکس چوری کرنے والے بااثر طبقے کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’ڈونلڈ ٹرمپ، میں جانتا ہوں تم دیکھ رہے ہو، لہٰذا آواز اونچی کرو!‘‘ جس پر مجمع میں نعرے لگنے لگے۔
ممدانی نے کہا کہ وہ ایک ایسا شہر بنائیں گے جہاں مسلمانوں، یہودیوں، تارکین وطن اور تمام کمیونٹیز کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
ظہران ممدانی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کامیاب ہونے پر گھروں اور دفاتر کے کرائے منجمد کردیں گے، شہر میں مفت ٹرانسپورٹ ہوگی اور چائلڈ کیئر کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔ ظہران ممدانی نے عوامی رابطہ مہم کے ذریعے شہریوں کا ٹوٹا اعتماد بحال کیا۔ظہران ممدانی فلسطینیوں کی حمایت میں کھل کربولنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ ظہران نے کہا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کو مطلوب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ انہیں گرفتار کرادیں گے۔
