فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرق وسطیٰ تباہی کے دہانے پر رہے گا ، شاہ عبداللہ دوئم
پائیدار امن صرف دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے
اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایسا عمل شروع نہیں کیا جاتا کہ جس کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو م مشرق وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے۔
بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ایسا مؤثر امن عمل شروع نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو، تب تک مشرق وسطیٰ مستقل تباہی کے دہانے پر رہے گا۔
شاہ عبداللہ نے واضح کیا کہ اگر ہم فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، اگر ہم اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مستقبل کے لیے کوئی راہ متعین نہیں کرتے، اور اسرائیل کے ساتھ عرب اور مسلم دنیا کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش نہیں کرتے، تو تباہی ہمارا مقدر بن جائے گی۔ :
انہوں نے تسلیم کیا کہ خطے میں قیام امن کے لیے ماضی میں کئی کوششیں کی گئیں، مگر وہ سب ناکام رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن صرف دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس میں مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے۔
شاہ عبداللہ کو امید ہے کہ سیاسی بصیرت اور عالمی قیادت کی سنجیدہ کوششوں سے صورتِ حال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق:
"اگر ہم نے اس بحران کا حل تلاش نہ کیا، تو ہمیں بار بار اسی المیے کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
