صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے پر حماس کا ردعمل بھی آ گیا
حماس رہنماء امن منصوبے پر الجزیرہ سے خصؤصی گفتگو کی
ٹرمپ کے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے 20 نکاتی امن منصوبے پر اسرائیلی وزیرعظم نیتن یاہو نے ہامی بھرلی تاہم دوسرے فریق حماس کے ردعمل کا شدت سے انتظار تھا۔
الجزیرہ کے مطابق ہمیشہ سے جنگ بندی معاہدوں پر دوٹوک مؤقف اختیار رکھنے والی حماس نے اسرائیل کی جانب سے متعدد بار معاہدوں سے انحراف کو برداشت کیا ہے۔
جیسے ہی ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم غزہ جنگ بندی کے لیے 20 نکاتی امن منصوبے پر اتفاق کا اعلان کیا، حماس کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔
الجزیرہ سے خصوصی بات کرتے ہوئے حماس کے رہنما محمود مرداوی نے بتایا کہ اب تک ہمیں اس امن منصوبے کا تحریری مسودہ موصول نہیں ہوا۔
اس سے قبل حماس رہنما کی جانب سے کہا گیا تھا کہ انہیں ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ تحریری شکل میں موصول نہیں ہوا تاہم ابھی عرب میڈیا نے رپورٹ کیاہے کہ قطر اور مصر نے ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ حماس کی مذاکراتی ٹیم تک پہنچادیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے غزہ امن معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس پر تمام مسلم اور عرب ملکوں نے اتفاق کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کے مجوزہ 20 نکاتی تفصیلات سامنے آ گئیں
واشنگٹن: غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران غزہ جنگ بندی معاہدے کا اعلان کر دیا۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبہ نہ صرف اسرائیل بلکہ تمام مسلم اور عرب ممالک کی حمایت سے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اس منصوبے کی مکمل تائید کی ہے۔
ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کی تفصیلات
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جو دو حکومتوں کے حکام سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے، امن منصوبے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
فوری جنگ بندی اور انسانی جانوں کا تحفظ
- موجودہ جنگی محاذوں کو منجمد کیا جائے گا۔
- 48 گھنٹوں میں تمام 20 زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور 24 جاں بحق مغویوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔
قیدیوں کی رہائی اور انسانی حقوق
- اسرائیل 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جنہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
- 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیے گئے 1700 فلسطینیوں (جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں) کو بھی رہا کیا جائے گا۔
حماس کے مستقبل سے متعلق اقدامات
- حماس کے جارحانہ ہتھیار تباہ کیے جائیں گے۔
- ہتھیار ڈالنے والے حماس ارکان کو عام معافی دی جائے گی۔
- جو حماس ارکان غزہ سے جانا چاہیں، انہیں محفوظ راستہ دیا جائے گا۔
- حماس کا غزہ کے مستقبل میں کوئی سیاسی یا عسکری کردار نہیں ہوگا۔
انسانی امداد اور تحفظ
- غزہ میں فوری انسانی امداد کی فراہمی اور اس کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے گی۔
- کسی کو جبراً بے دخل نہیں کیا جائے گا، اور غزہ چھوڑنے والے شہریوں کو واپسی کا حق حاصل ہوگا۔
عبوری حکومت اور سکیورٹی فورس
- غزہ میں فلسطینی اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل عارضی عبوری حکومت قائم کی جائے گی۔
- یہ حکومت ایک نئی بین الاقوامی تنظیم کے تحت کام کرے گی۔
- غزہ میں عارضی بین الاقوامی سکیورٹی فورس بھی تعینات کی جائے گی۔
تعمیر نو اور سیاسی اصلاحات
- ٹرمپ کے اقتصادی ترقیاتی منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔
- فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کے بعد وہ غزہ کا کنٹرول سنبھالے گی۔
- اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کرے گی۔
علاقائی استحکام اور خودمختاری
- اسرائیل کو غزہ پر دوبارہ قبضہ یا الحاق کی اجازت نہیں ہوگی۔
- اسرائیل قطر پر مزید حملے نہیں کرے گا۔
فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار
- سیاسی و ترقیاتی اصلاحات مکمل ہونے کے بعد آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل راستہ کھولا جائے گا۔
- اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار مذاکراتی عمل شروع کیا جائے گا تاکہ خطے میں پُرامن ہم آہنگی قائم ہو۔
