Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سید عارف جعفری اور بانسری، ایک عہد تمام ہوا

سید عارف جعفری اور بانسری، ایک عہد تمام ہوا

اسلام آباد: ( خاور عباس شاہ ) سید عارف جعفری نے اپنی پوری زندگی بانسری بجانے میں وقف کر رکھی تھی ۔فن موسیقی کے بے تاج بادشاہ استاد فتح علی خان نے انہیں انتہائی کم عمری میں اپنی شاگردی میں لیا ، یہ فن موسیقی کے لیے عارف جعفری کا جنون ہی تھا کہ جس نے بالآخر انہیں سرحدوں سے پرے پہنچا دیا اور وہ یونیسکو کے ایک سکالرشپ پروگرام کے تحت رومانیہ گئے، جہاں انہوں نے مغربی موسیقی میں مہارت حاصل کی۔تاہم، مسٹر جعفری نے لوک اور کلاسیکی موسیقاروں کے لیے ریاستی سرپرستی کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ان کی خدمات کو حال ہی میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) نے حاصل کیا، جہاں وہ "حلقہ احبابِ موسیقی” کا بھی حصہ رہے۔  جو ماہ میں ایک بار منعقد ہوتا تھا ،یہ اقدام موسیقی کے شائقین کو کلاسیکی دھنوں سے روشناس کرانے کے لیے کیا گیا تھا جہاں موسیقی کے شائقین کو قدیم استادوں کی نایاب دھنوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع میسر ہوتاہے۔پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے  نے آرکائیوزے تقریبا دو ہزار پرانے ریکارڈ نکالے اور کچھ  نایاب ریکارڈ نجی اداروں سے بھی حاصل کیے۔ یہاں آج موسیقی کےحوالے سے سید عارف جعفری کا ایک ایسا لاجواب انٹرویو جو انہوں نے اپنی زندگی میں ایک دیا تھا ان قارئین کے لئے جو ان کے فن فن سے باخوبی واقف تھے پاکستان میں موسیقی کے حوالے سے عارف جعفری کہتے تھے کہ بلا شبہ موسیقار اپنی شناخت کے پیاسے ہوتے ہیں، خاص طور پر اس ادارے سے جو سب سے زیادہ ذمہ دار ہے ، یعنی حکومت۔یہ بات اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ لوک اور کلاسیکی موسیقی دونوں کو زندہ رکھا جا سکے، اور ان روایتی سازوں کو بھی  جن پر آج بہت کم لوگ دسترس رکھتے ہیں۔

انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آج پورے ملک میں صرف چار یا شاید پانچ سارنگی نواز باقی رہ گئے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی آواز کی نقل اس سے بہتر کوئی دوسرا ساز نہیں کر سکتا۔بلاشبہ فنکار جتنی عزت و قدر کے مستحق ہیں، مگر افسوس ریاست انہیں تسلیم نہیں کرتی اور  اسی طرح متعلقہ صنعت بھی انہیں اپنا حصہ نہیں سمجھتی۔ یہ بھی  ہماری بد قسمتی ہے حتی کہ مزدوروں کو بھی ریاستی سہولیات اور خدمات میسر ہیں، مگر موسیقاروں کو نہیں۔جب کسی فنکار کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کے فن کی کوئی  قدر اوروقعت نہیں، تو وہ کیسے ترقی کرسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ   آج کے موسیقار اپنے بچوں کو یہ فن  منتقل کرنے کی بجائے ان کے لیے مستقل نوکریوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ پاکستان میں فیوژن موسیقی کے مستقبل بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ فیوژن موسیقی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس میں آپ کسی بھی اندازِ موسیقی کا پورا لطف نہیں اٹھا سکتے۔مغربی موسیقی صرف انٹرنیٹ سے اسباق ڈان لوڈ کر لینے کا نام نہیں، جیسا کہ آج کل زیادہ تر نئے موسیقار کر رہے۔مغربی موسیقی نہایت مضبوط اور پیچیدہ ہے، اور جب تک بچوں کو نرسری ہی سے موسیقی نہیں سکھائی جاتی خواہ مغربی ہو یا مشرقی جیسا کہ بہت سے دوسرے ممالک میںسکھائی جاتی ہے، اس وقت تک اس فن کو سمجھنا آسان نہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو یہاں موجود نہیں۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ موسیقی کی زبانی روایت یعنی باپ سے بیٹے تک منتقلی سے آگے بڑھے اور موسیقی کو اسکولوں میںبنیادی تعلیم کا حصہ بنایا جائے تاکہ طلبہ میں بہتر ذوق اور فہم پیدا ہو اور موسیقی کے معیار میں بہتری آئے۔مثال کے طور پر سجاد علی کو لیجیے۔ وہ نہ صرف فنکاروں کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے باقاعدہ موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کلاسیکی اور پاپ دونوں طرز کی گائیکی میں کمال رکھتے، جو نئی اور پرانی نسل سننے والوں کو اچھی لگتی ہے۔ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کا موسیقی کے فروغ کے حوالے سے کہا کہ جواب:یہ نہایت ضروری ہے کہ نوجوان اصل سر (Melody) اور لے (Rhythm) سیکھیں۔یہ ایک مثبت پیشرفت ہے کہ پی این سی اے کے نئے ڈائریکٹر جنرل جمال شاہ نے اگلے ماہ سے شروع ہونے والے موسیقی کے تربیتی پروگرامز کی منظوری دی ہے، جن میں روایتی ساز جیسے طبلہ، بانسری اور وائلن سکھائے جائیں گے۔اسی کے ساتھ ہم حکومت سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس میدان میں فعال کردار ادا کرے،اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کا ادارک کرتے ہوئے کلاسیکی موسیقی جیسے عظیم ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے آگے آئے ۔بلاشبہ ماضی میں پی ٹی وی ہی واحد چینل تھا اور شاید آج بھی ہے ،جو کلاسیکی موسیقی کو فروغ دیتا ہے۔ہم یہ بھی چاہیں گے کہ ریڈیو پاکستان ایک بار پھر اپنے روایتی موسیقی کے پروگرام بحال کرے،  اور ماضی کی طرح  نشریاتی وقت کا پچاس فیصدحصة بحال کرئے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی آزادی ٹرین جس میں مختلف ثقافتی فلوٹس کے ذریعے ملک کی رنگا رنگ اور قدیم ثقافتی وراثت کو پیش کیا گیا  کی قیادت سید عارف جعفری نے کی تھی، جو اس وقت پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) میں ڈائریکٹر پرفارمنگ آرٹس کے عہدے پر فائز تھے۔سید عارف جعفری، سابق ڈائریکٹر پرفارمنگ آرٹس (نیشنل کونسل آف دی آرٹس)، ایک عظیم فنکار، مصنف اور موسیقی کے محقق تھے۔ وہ مشہور کتاب "Who is Who in Asian Music History” کے مصنف بھی تھے۔وہ ایک مہذب، نکھرے ہوئے اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ بانسری نواز (Flutist) تھے ، جنہوں نے بیرونِ ملک سے موسیقی اور سازوں میں اعلی تعلیم حاصل کی۔سید عارف جعفری کو موسیقی کے تقریبا تمام سازوں پر مہارت حاصل تھی ،تاہم ایک بہترین اور اعلیٰ درجے کے بانسری نوازی ہی ان کی پہچان بنی۔

2018میںپاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) نے چائنا کلچرل سینٹر کے تعاون سے ایک موسیقی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں چین سے آنے والے موسیقاروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی گلوکاروں اور موسیقاروں نے بھی شرکت کی۔اس ورکشاپ کی میزبانی معروف موسیقیات کے ماہر (Musicologist) عارف جعفری نے کی۔اس ورکشاپ سے دونوں ممالک کے فنکاروں کو ایک دوسرے کے روایتی سازوں کو سیکھنے کا موقع فراہم کیا  ۔پاکستان کی جانب سے بانسری، طبلہ اور ڈھولکی جبکہ چین کی جانب سے گوژنگ، زونگ روان، پیپا اور ایک چار تار والا چینی ساز ورکشاپ کے شرکاء کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے۔ دنیائے بانسری کے بادشاہ سید عارف جعفری 27 اکتوبر 2025 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے لکین ان کا فن ہیمشہ اپنے مداحوں کے دلو میں زندہ رہے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More