سوشل میڈیا پر 90 فیصد فیک نیوز ہیں، جلد کریک ڈاؤن ہوگا، وزیر داخلہ
،جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں ہیں، بطور صحافی یقین رکھتا ہوں آزادی اظہار رائے ہونا چاہیے، فیک نیوز کی اجازت نہیں،کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کررہا ہے کہ اداروں میں مسئلہ چل رہا ہے،بہت جلد آپ یہاں آئیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا، اسلام آباد خودکش حملے میں افغان شہری ملوث تھے، جتنے حملے ہوئے ان میں افغانی ملوث نکلے، ہم مزید بم دھماکوں کے متحمل نہیں ہوسکتے،غیرقانونی افغان باشندوں کو واپس بھیج رہے ہیں،افغان باشندوں کی واپسی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، محسن نقوی کی میڈیا کو بریفنگ
اسلام آباد : (نمانندہ خصوصی) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر 90 فیصد فیک نیوز چل رہی ہیں، یہ نہیں ہوسکتا سوشل میڈیا پر جو چاہیں خبر لگادیں، اب سوشل میڈیا پر غلط خبر پر کریک ڈاؤن کریں گے،جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں ہیں، بطور صحافی یقین رکھتا ہوں آزادی اظہار رائے ہونا چاہیے، فیک نیوز کی اجازت نہیں،کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کررہا ہے کہ اداروں میں مسئلہ چل رہا ہے،بہت جلد آپ یہاں آئیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا، اسلام آباد خودکش حملے میں افغان شہری ملوث تھے، جتنے حملے ہوئے ان میں افغانی ملوث نکلے، ہم مزید بم دھماکوں کے متحمل نہیں ہوسکتے،غیرقانونی افغان باشندوں کو واپس بھیج رہے ہیں،افغان باشندوں کی واپسی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ نیشنل میڈیا پر غلط خبر چلتی ہے تو پیمرا کا نوٹس ہوتا ہے تاہم سوشل میڈیا پر تصویر لگائیں، جو دل کرے وہ خبر چلائیں، یہ نہیں ہوسکتا سوشل میڈیا پر جو چاہیں خبر لگادیں۔انہوں نے کہا کہ جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں ہیں، بطور صحافی یقین رکھتا ہوں کہ آزادی اظہار رائے ہونا چاہیے لیکن آزادی اظہار رائے اہمیت رکھتی ہے لیکن فیک نیوز کی اجازت نہیں، اب سوشل میدیا پر غطل خبر پر کریک ڈاؤن کریں گے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کررہا ہے کہ اداروں میں مسئلہ چل رہا ہے لیکن جو لوگ باہر بیٹھیں ہیں انہیں بتادوں، آپ سب بہت جلد واپس آرہے ہیں، بہت جلد آپ یہاں آئیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا۔ملک میں افغان باشندوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ غیرقانونی افغان باشندوں کو واپس بھیج رہے ہیں، پنجاب، بلوچستان اور سندھ سے افغان باشندوں کا انخلا جاری ہے تاہم افغان باشندوں کے معاملے پر خیبرپختونخوا میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں افغان شہریوں کو تحفظ دیا جارہا ہے لیکن افغان باشندوں کی واپسی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، افغان باشندوں سے درخواست ہے باعزت طریقے سے اپنے وطن لوٹ جائیں۔محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد خودکش حملے میں افغان شہری ملوث تھے، اس کے علاوہ جتنے حملے ہوئے ان میں افغانی ملوث نکلے، ہم مزید بم دھماکوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر تک 4 لاکھ افغان باشندوں کو طورخم بارڈر سے واپس بھیجا، اب جوبھی افغان واپس پاکستان آنیکی کوشش کرے گا تو گرفتار کرلیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں اور قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔
