Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات، امریکی جریدے کی پاکستان کے مؤقف کی مکمل حمایت

سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات، امریکی جریدے کی پاکستان کے مؤقف کی مکمل حمایت

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد جنوبی ایشیا میں پانی سے متعلق سیاست ایک نازک اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس اقدام پر امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافہ کریں گے بلکہ پورے خطے کو ایک سنگین انسانی بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور علاقائی استحکام کی بنیاد رہا ہے۔ جریدے نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں بھارت کے دُلہستی اسٹیج۔II ہائیڈرو پاور منصوبے کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے سندھ طاس معاہدے کے منافی قرار دیا گیا۔ امریکی جریدے کے مطابق بھارت آبی منصوبوں کے ذریعے پانی کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کر رہا ہے، جو خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

دی نیشنل انٹرسٹ نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا پہلے ہی پانی کی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور اگر اس بحران کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تو یہ ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کو آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا بھی بین الاقوامی آبی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ بھارت قانونی طور پر اس معاہدے کا پابند ہے اور اسے مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو فراہم کرنا ہوگا۔

امریکی جریدے کے مطابق سندھ طاس معاہدہ نہ صرف پانی کی تقسیم بلکہ جنوبی ایشیا میں فوڈ سیکیورٹی کی بنیادی ضمانت بھی ہے۔ پاکستان میں زراعت، خوراک کی پیداوار اور لاکھوں افراد کا روزگار اسی معاہدے سے جڑے پانی پر انحصار کرتا ہے۔

دی نیشنل انٹرسٹ نے آخر میں واضح کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو عالمی عدالتیں اور بین الاقوامی قانون ناقابل قبول سمجھتے ہیں، اور ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More