Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سال 2025: پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سرگرمی، توازن اور سفارتی کامیابیاں

تجزیہ: خاور عباس شاہ

سال 2025: پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سرگرمی، توازن اور سفارتی کامیابیاں

سال 2025 پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کے اعتبار سے غیر معمولی طور پر متحرک اور فیصلہ کن ثابت ہوا۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ اور عالمی نظام سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ اور سلامتی کے چیلنجز سے دوچار تھا، پاکستان نے متوازن، اصولی اور فعال سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا بلکہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعلقات کو نئی جہت بھی دی۔

سال بھر میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، چیف آف آرمی اسٹاف (فیلڈ مارشل)، اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کی قیادت میں چین، سعودی عرب، ترکی، ایران، امریکا، یورپی ممالک، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم دورے کیے گئے۔ ان دوروں کے نتیجے میں دفاعی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور سفارتی روابط میں نمایاں پیش رفت ہوئی، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ہمہ جہتی کا مظہر ہے۔

پاکستان۔امریکا تعلقات: نئی عملی سمت

مئی میں معرکۂ حق کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک نئی عملی سطح میں داخل ہوئے۔ اعلیٰ سطحی سیاسی اور عسکری روابط میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی کھلے الفاظ میں تحسین اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کے کردار کو ایک بار پھر سنجیدگی سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ دفاعی تعاون، انسدادِ دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں اشتراک مزید مضبوط ہوا، جو خطے کے استحکام کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

چین: خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون

چین بدستور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے مضبوط اور قابلِ اعتماد شراکت دار رہا۔ سی پیک کے تحت توانائی، ٹرانسپورٹ، صنعتی زونز اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں پیش رفت جاری رہی، جبکہ چین نے پاکستان کی معاشی بحالی اور دفاعی صلاحیت میں مسلسل تعاون فراہم کیا۔ یہ تعلقات پاکستان کے لیے نہ صرف معاشی بلکہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل رہے۔

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری: تاریخی پیش رفت

سال 2025 کی نمایاں ترین سفارتی کامیابیوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ سرفہرست رہا۔ اس معاہدے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو محض برادرانہ تعاون سے آگے بڑھا کر اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح پر پہنچا دیا۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار معاشی امکانات کے نئے در کھولتا ہے۔ فلسطین، غزہ اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر دونوں ممالک کے مؤقف میں مکمل ہم آہنگی برقرار رہی۔

عالمی فورمز پر اصولی مؤقف

پاکستان نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر فلسطین، کشمیر اور غزہ کے حوالے سے دوٹوک اور اصولی مؤقف اختیار کیا۔ عالمی سطح پر پاکستان کے اس واضح اور جرات مندانہ مؤقف کو پذیرائی ملی، جس سے اس کی سفارتی ساکھ مضبوط ہوئی۔

غیر ملکی قیادت کے دورے: پاکستان کا بڑھتا ہوا عالمی کردار

2025 کے دوران متعدد اہم عالمی رہنماؤں نے پاکستان کا دورہ کیا، جن میں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور قازقستان کے نائب وزیراعظم مورات نورتیلیو شامل ہیں۔ ان دوروں نے پاکستان کی علاقائی اہمیت اور سفارتی مرکزیت کو مزید اجاگر کیا۔

خصوصی طور پر 26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ایک سنگِ میل ثابت ہوا، جس کے دوران یو اے ای کی جانب سے فوجی فاؤنڈیشن میں ایک ارب ڈالر کے حصص خریدنے کا تاریخی معاہدہ طے پایا۔ یہ معاہدہ پاکستان پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

ماہرین کے مطابق 2025 کی سفارتی سرگرمیاں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ پاکستان نے عالمی اور علاقائی دباؤ کے باوجود ایک متوازن، فعال اور مؤثر خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا کامیابی سے تحفظ کیا۔ یہ سال پاکستان کی سفارت کاری کے لیے نہ صرف ایک کامیاب مرحلہ بلکہ آئندہ کے لیے مضبوط بنیاد بھی ثابت ہوا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More