Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سال 2025: قومی اسمبلی میں قانون سازی، ایک تجزیاتی جائزہ

تجزیہ: خاور عباس شاہ

سال 2025: قومی اسمبلی میں قانون سازی، ایک تجزیاتی جائزہ

سال 2025 پارلیمنٹ کے لیے غیر معمولی اہم رہا، جس میں دونوں ایوانوں میں قانون سازی کی رفتار اور نوعیت نے ملکی سیاسی منظرنامے پر نمایاں اثرات مرتب کیے۔

1. مجموعی رجحانات اور پارلیمانی ماحول

سال بھر میں قانون سازی کا بنیادی محرک حکومت رہی، جبکہ حزبِ اختلاف کا کردار زیادہ تر احتجاج، واک آؤٹس اور تجاویز کی کمیٹیوں میں رکاوٹ تک محدود رہا۔ قومی اسمبلی میں متعدد بلز پیش کیے گئے، جن میں سے 31 بلز منظور ہوئے۔ ان قوانین کا دائرہ وسیع تھا اور یہ آئینی ترامیم، ڈیجیٹل قوانین، دفاعی امور اور انتظامی اصلاحات تک پھیلا ہوا تھا۔

اپوزیشن کی جانب سے بعض قوانین پر شدید اعتراضات سامنے آئے، خاص طور پر وہ قوانین جو بغیر طویل بحث کے منظور کیے گئے۔ اس سے پارلیمانی عمل اور سیاسی توازن کے حوالے سے ایک تناؤ پیدا ہوا۔

2. آئینی ترامیم اور دفاعی اصلاحات

سال کی سب سے بڑی پیش رفت 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری تھی، جسے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں، جس میں اعلیٰ عدلیہ کو وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے الگ ڈھانچوں میں تقسیم کیا گیا۔
  • چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کا اصول متعین، جس کے مطابق سینئر ترین چیف جسٹس کو یہ عہدہ دیا جائے گا۔
  • عسکری قیادت میں تبدیلیاں، جن میں آرمی چیف کی مدت اور کردار میں ترمیم اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے اضافی عہدے کی منظوری شامل ہے۔

مزید برآں، آرمی ایکٹ ترمیمی بل، پاکستان نیوی ترمیمی بل اور پاکستان ایئرفورس ترمیمی بل بھی اس سال منظور ہوئے، جو دفاعی اداروں کے اختیارات اور ڈھانچے میں اصلاحات لائے۔

3. سوشل اور انتظامی قوانین

پارلیمنٹ نے پیکا ترمیمی بل کے ذریعے سوشل میڈیا اور آن لائن مواد پر سخت ریگولیٹری اختیارات متعارف کرائے، جن میں غلط معلومات پر سزائیں اور جرمانے شامل تھے۔
مزید برآں، ارکانِ پارلیمنٹ تنخواہ و مراعات ترمیمی بل، وکلا و بار کونسلز ترمیمی بل، تیزاب و آگ سے جلانے کے جرم کا بل اور زکوٰۃ و عشر ترمیمی بل بھی منظور ہوئے، جس سے سماجی اور انتظامی پہلوؤں پر اثرات مرتب ہوئے۔

4. قانون سازی کی خصوصیات اور اثرات
  • حکومتی اجارہ داری: قانون سازی کا بڑا حصہ حکومتی بلز پر مشتمل رہا، جبکہ اپوزیشن کی تجاویز عملی مرحلے تک محدود رہیں۔
  • تیزی اور تنازعہ: بعض قوانین بغیر طویل بحث کے منظور ہونے کی وجہ سے پارلیمانی تنازعات اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
  • ملکی سیاست پر اثرات: قانون سازی نے ملکی سیاسی ماحول میں حرارت برقرار رکھی، خاص طور پر دفاعی اور آئینی اصلاحات کے حوالے سے۔

سال 2025 وہ دور تھا جس میں پارلیمنٹ نے متحرک کردار ادا کیا، مگر اس کی کارکردگی پر کچھ سوالات بھی اٹھے، خاص طور پر اپوزیشن کے مؤثر کردار کی کمی اور قوانین کے تیز رفتار نفاذ کے حوالے سے۔ آئینی، دفاعی اور سوشل قوانین میں بڑی پیش رفت نے ملکی سیاسی اور سماجی ڈھانچے پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More