ریاست کے علاوہ کوئی بھی جہاد کا حکم یا فتویٰ نہیں دے سکتا؛ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گرد ہمارے شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، آرمی چیف کا قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ریاست کے علاوہ کوئی بھی جہاد کا حکم یا فتویٰ نہیں دے سکتا، افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گرد ہمارے شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
فیلڈمارشل چیف آف ڈیفنس فورسزسیدعاصم منیر نے قومی علماء مشائخ کانفرنس سےخطاب میں کہا آپریشن بنیان مرصوص میں اللّٰہ کی مدد آتے ہوئےدیکھی،کسی بھی اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہادکاحکم اور فتویٰ نہیں دے سکتا،جن قوموں نےاپنے اسلاف کی علمی و فکری میراث اور قلم کی طاقت کو چھوڑ دیا وہ زبوں حالی کا شکار ہو گئیں۔
فیلڈ مارشل چیف عاصم منیر کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے اسلامی ممالک میں سےمحافظین حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا،ریاست طیبہ اور ریاست پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق اورمماثلت ہے، ریاست طیبہ اورریاست پاکستان کا قیام کلمہ طیبہ کی بنیاد پر رمضان کے بابرکت مہینےمیں ہوا،دونوں ریاستوں میں مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ رب کائنات نےانہیں خادم الحرمین بنانا تھا اور ہمیں محافظ الحرمین بنانا تھا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ کسی بھی اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم اور فتوی نہیں دے سکتا، افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشتگردی کے ذریعے ہمارے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، فتنہ الخوارج کی جو تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں ان میں 70 فیصد افغانی شامل ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ افغانستان کو فتنہ الخوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، جن قوموں نے اپنے اسلاف کی علمی و فکری میراث اور قلم کی طاقت کو چھوڑ دیا، وہ زبوں حالی کا شکار ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ جن قوموں نے اسلاف کی علمی و فکری میراث کو چھوڑ دیا، وہ زبوں حالی کا شکار ہوگئیں، ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم یا فتویٰ نہیں دے سکتا۔
