دریائے سندھ ہمارا ہے، اس میں یا تو ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون، بلاول بھٹو کا مودی سرکار کو دوٹوک پیغام
مشترکہ مفادات کونسل میں رضا مندی کے بغیر سندھ میں کوئی نہر نہیں بنے گی ،چیئرمین پی پی پی کا سکھر میں جلسے سے خطاب
سکھر: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ دریائے سندھ پر ایک اور حملہ بھارت کی طرف سے ہوا ہے، کہنا چاہوں گا کہ دریائے سندھ ہمارا ہے اور یہ ہمارا رہے گا، اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون بہے گا۔ ہم ڈٹ کر بھارت کا مقابلہ کریں گے، ہماری فوج بھارت کو منہ توڑ جواب دے گی۔
سکھر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پر ایک اور حملہ ہوا ہے، اس دفعہ بھارت کی طرف سے سندھو پر حملہ ہوا ہے، مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا تھا، جس کا الزام نئی دہلی نے پاکستان پر لگایا، مودی نے اپنی کمزوریاں چھپانے کے لیے جھوٹے الزامات لگائے، جس کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو کہنا چاہوں گا کہ دریائے سندھ ہمارا ہے اور یہ ہمارا رہے گا، اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون بہے گا، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک دن فیصلہ کریں کہ آپ سندھ طاس معاہدے کو نہیں مانتے، نہ بین الاقوامی سطح پر یہ مانا جائے گا، نہ پاکستان کے عوام یہ مانیں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جیسے ہم نے پاکستان کے شہروں اور گلیوں میں دریائے سندھ پر آواز اٹھائی اور وفاقی حکومت کو قائل کیا کہ وہ نئی نہریں نہیں بنائے گی، ویسے ہی جدوجہد کریں گے، پاکستان کے عوام بہادر لوگ ہیں، ہم بھارت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، سرحد پر ہماری افواج آپ کو منہ توڑ جواب دیں گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تمام صوبے مانیں گے تو نہریں بنیں گی، یہ بات ہو چکی ہے کہ یہ حکومت پاکستان کی پالیسی ہے کہ آپ کی مرضی کے بغیر کوئی نئی کینالز نہیں بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پرامن جمہوری جدوجہد کی کامیابی ہے، مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں باہمی رضامندی کے بغیر دریائے سندھ سے کوئی نہر نہیں بنے گی۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کا مشترکہ مفادات کونسل میں وفاق اور تمام صوبوں کے نمائندے بیٹھے ہوتے ہیں، اس معاہدے سے قبل اکثریت کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاسکتا تھا کہ نئی نہریں آپ کی مرضی کے بغیر بنیں لیکن ہم وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں کہ آپ (عوام) کے اعتراضات کو سن کر اب مشترکہ مفادات کونسل میں اکثریتی جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی فیصلہ کر چکے ہیں کہ کوئی نئی کینال آپ کی مرضی کے بغیر نہیں بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو ماننا پڑے گا ورنہ کینالز نہیں بنیں گی، اس معاہدے میں وزیراعظم اور وفاقی حکومت نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ تمام صوبوں کے پانی کے حقوق ہیں، اس کا پانی کے معاہدے 1991ء اور واٹر پالیسی 2018ء میں اتفاق رائے موجود ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت یہ مان چکی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس فورا بلایا جائے جبکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندے اس میں اتفاق کردہ پالیسی کی توثیق کریں گے۔
واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 22اپریل کو سیاحوں کی ہلاکت کے بعد 23اپریل کو سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو 48گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جبکہ واہگہ بارڈرکی بندش اور اسلام باد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات اپنے ملٹری اتاشی کو وطن واپس بلانے کے علاوہ پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کردی تھی۔
بعد ازاں، اگلے روز (24اپریل) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت سے تجارت اور واہگہ بارڈر کی بندش کرنے کا فیصلہ کیا، علاوہ ازیں بھارتی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود بھی بند کردی گئی، اور بھارتی شہریوں کو 48گھنٹے میں پاکستان چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔
