بلاول بھٹو کی کینالز کے معاملے پر حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی دھمکی
ہم نے شہباز کو دو بار وزیراعظم بنوایا، کینالز منصوبہ واپس نہ لیا تو پی پی حکومت کے ساتھ نہیں چلے گی، بلاول بھٹو زرداری
حیدرآباد: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ وفاق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، وفاق کینالز مں صوبے کو واپس لے ورنہ پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ نہیں چلے گی۔یہ بات انہوں نے حیدر آباد میں پیپلز پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمر کوٹ میں پیپلز پارٹی کی جیت مبارک ہو، پاکستان کے عوام آج بھی شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ کھڑے ہیں، سندھ کے عوام نے ثابت کردیا کہ سندھ میں صرف تیر کا مینڈیٹ ہے، 17 جماعتیں ایک طرف اور پیپلز پارٹی ایک طرف، فتح ہمیں ملی۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے کینالز منصوبہ مسترد کردیا، اسلام آباد والے اندھے اور بہرے ہیں، 6 میں سے دو کینالز کی منظوری قیدی نمبر 420 نے دی تھی، اسلام آباد والے ہماری بات سنیں ہم آپ کے مں صوبے کی مخالفت کرتے ہیں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ وفاق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، ہم نے شہباز شریف کو ایک بار نہیں دو بار وزیراعظم بنوایا اور کیا اب دھمکی سے پیپلز پارٹی کو ڈرایا جائے گا؟بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ شیر والوں کا ہر منصوبہ کسان دشمن ہوتا ہے، انہوں نے گندم اسکینڈل کی وجہ سے کسانوں کا معاشی قتل عام کیا، شیر والے صرف عوام کا خون چوستے ہیں اور کچھ نہیں کرتے، حکومت کسی غلط فہمی میں نہ رہے کہ پیچھے ہٹ جاں گا میں عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔
بلاول بھٹو زرداری نے شہباز حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی دھمکی دیدی اور کہا کہ وفاق کینالز مں صوبے کو واپس لے ورنہ پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ نہیں چلے گی۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ سندھ اور پاکستان کے عوام کینال کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں، ہم نے عوام کے حقوق کی جنگ ہمیشہ لڑی ہے۔حیدرآباد میں جلسے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمر کوٹ کے قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کی جیت مبارک ہو، سندھ کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں۔ا
نہوں نے کہا کہ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف اور (ن) لیگ ایک پیج پر تھی، مگر عوام نے انہیں تاریخی شکست دی اور وہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، یہ سب ایک ہی نکتے پر ڈٹے تھے کہ پی پی کو ہرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی کے ووٹرز نے اسلام آباد کو شکست دی ہے اور یہ پیغام بھیجا ہے کہ اس صوبے کے عوام شہید بے نظیر بھٹو اور صدر آصف زرداری کے ساتھ آج بھی کھڑے ہیں۔ انہوں نے عوام سے مخاطب ہوکر مزید کہا کہ آپ نے پیپلزپارٹی کو فتح سے ہمکنار کر کے ثابت کردیا ہے کہ سندھ اور پاکستان کے عوام کینال کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں، پیپلزپارٹی نے اس ملک کے عوام کی جنگ ہمیشہ لڑی ہے، ہم پاکستان کھپے کہنے والوں میں سے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اس شخص، اس قیدی نمبر 420نے ان چھ کینالوں میں سے دو کینالوں کی اجازت دی تھی، اس وقت بھی پیپلزپارٹی نے مزاحمت کی تھی، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کی منصفانہ تقسیم ہماری قومی اور عالمی ذمے داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ جو وفاق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کو مسئلے میں ڈال سکتا ہے، تو اس وقت جب عمران خان نے دو کینال کی اجازت دی تو پیپلزپارٹی کے جیالوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور اس کے بعد عوام کی طاقت سے عدم اعتماد لے کر آئے اور دو کینال کی اجازت دینے والے کو گھر بھیج دیا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ جنگ میری اور آپ کی جنگ ہے اور ہمیں ورثے میں ملی ہے، سب سے پہلے شہید محترمہ بے نظیربھٹو نے پانی کی جنگ لڑی تھی، انہوں نے متنازع ڈیموں کے خلاف آواز اٹھائی تھی، اور ان کے ساتھ ملک بھر کے عوام شریک ہوگئے تھے، اور پھر اس کے وزیر آبی وسائل پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف تھے، انہوں نے اس منصوبے کو دفن کردیا تھا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم تو متنازع کینالز کے منصوبے کے خلاف مستقل آواز اٹھارہے ہیں، مگر اسلام آباد والے اندھے اور بہرے ہیں، وہ دیکھنے اور سننے کے لیے تیار نہیں، ہم متنازع کینال منصوبے کی مخالفت اصولوں کی وجہ سے کررہے ہیں اور اس لیے کہ میرا وفاق خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عین اسی وقت جب دہشت گرد تنظیمیں بلوچستان اور خیرپختونخوا میں حملے کررہی ہیں، اور پورے ملک میں دہشت گردی کی آگ لگی ہوئی ہے، آپ نے ایک ایسا موضوع چھیڑ دیا ہے جس سے بھائی کو بھائی سے لڑنے کا خطرہ ہے اور وفاق کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے پیاسے مر جانے کا خطرہ ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ متنازع کینال بنانے والے اسلام آباد میں بیٹھے ہیں، اور ہماری وجہ سے طاقت ان کے پاس ہے، اگر آج شہباز شریف وزیراعظم ہیں تو انہیں سندھ کے عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں وزارتیں نہیں چاہیئں، اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوں گے تو ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی ترقی ہو، معاشی طور پر ترقی ہو، ہم چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں اور ان کے پس پردہ عالمی طاقتوں کو عبرتناک شکست ہو، چاروں صوبوں میں ترقی ہو، مہنگائی میں کمی ہو، روزگار کے مواقع میسر ہوں اور اس حد تک ہم ساتھ چلنے کے لیے تیار تھے۔
انہوں نے کہا کہ صدرزرادری کی پالیسیوں نے کسان کو خوشحال بنادیا تھا اور پاکستان گندم برآمد کررہا تھا، مگر( ن) لیگ صرف عوام کا خون چوستی ہے، اور جس طرح یہ پارٹی پنجاب اور سندھ کے کسانوں کا خون چوس رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ(ن) لیگ کی ہر پالیسی کسان دشمن ہے، پہلے انہوں نے گندم اسکینڈل کی وجہ سے ہمارے کسانوں اور ہاریوں کے معاشی قتل کا بندوبست کیا، اور پھر امدادی قیمت دینے کہ بجائے چاروں صوبوں کو کسانوں کو امدادی قیمت دینے اور گندم خریدنے سے روک دیا، یہ سراسر ظلم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ زرعی شعبے پر ٹیکسوں کی بھرمار کردی جائے، اس صورت میں سندھ اور پنجاب کے کسان کہاں جائیں گے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اب یہ صحرا کو آباد کریں گے، یہ چولستان کے ریگستان میں کاشتکاری کرنا چاہتے ہیں، جبکہ 25سال سے پانی کی قلت چلی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے نئے علاقے کو آباد کرنا ہے تو سو بسم اللہ مگر دریائے سندھ پر ہم سودا نہیں کریں گے، ہمارامطالبہ ہے کہ سندھ مخالف منصوبے واپس لیے جائیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر حکومت یہ متنازع منصوبہ روک دیتی ہے تو میں اس کے ساتھ بیٹھ کر زرعی شعبے میں ترقی کے لیے اگلے 50سال کے منصوبے بنانے کے لیے تیار ہوں۔
