امریکا کا یورپ سے 2027 تک نیٹو کی زیادہ تر روایتی دفاعی ذمہ داریاں سنبھالنے کا مطالبہ
امریکہ چاہتا ہے کہ یورپ 2027 تک نیٹو کی روایتی دفاعی صلاحیتوں — خفیہ معلومات سے لے کر میزائلوں تک — کا زیادہ تر بوجھ اٹھا لے۔ یہ بات پینٹاگون کے حکام نے اس ہفتے واشنگٹن میں یورپی سفارتکاروں سے ملاقات کے دوران بتائی۔
یہ ڈیڈ لائن کئی یورپی حکام کو غیر حقیقت پسندانہ لگی۔
یہ پیغام، جس کی تصدیق پانچ باخبر ذرائع نے کی ہے، پینٹاگون کے ان اہلکاروں نے دیا جو نیٹو پالیسی کی نگرانی کرتے ہیں اور جن کی ملاقات یورپی وفود سے ہوئی۔
اگر یہ بوجھ یورپ منتقل کر دیا جائے تو یہ نیٹو کے قیام کے بعد سے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان سب سے بڑا عملیاتی تبدیلی ہوگی۔
یورپ کی پیش رفت سے امریکہ غیر مطمئن
پینٹاگون حکام نے کہا کہ روس کے یوکرین پر 2022 میں بڑے حملے کے بعد سے یورپ نے دفاعی صلاحیت بڑھانے کی جو کوششیں کی ہیں، وہ ابھی بھی ناکافی ہیں۔
امریکی حکام نے یورپی نمائندوں سے کہا کہ اگر یورپ 2027 تک ہدف پورا نہ کر سکا تو امریکہ بعض نیٹو دفاعی کوآرڈی نیشن نظاموں میں اپنی شرکت پر نظرِثانی کر سکتا ہے۔
امریکی کانگریس کے کچھ ارکان بھی اس پیغام سے آگاہ ہیں اور تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔
امریکہ کیسے پیش رفت کو ماپے گا؟ واضح نہیں
روایتی دفاعی صلاحیتوں میں فوج، اسلحہ اور غیر ایٹمی جنگی وسائل شامل ہیں۔
امریکی حکام نے وضاحت نہیں کی کہ وہ یورپ کی پیش رفت کس پیمانے سے ناپیں گے۔
یہ بھی واضح نہیں کہ 2027 کی ڈیڈ لائن ٹرمپ انتظامیہ کا باقاعدہ مؤقف ہے یا صرف پینٹاگون کے کچھ حکام کا۔
یورپ کے لئے 2027 کی ڈیڈ لائن ناقابلِ عمل؟
کئی یورپی عہدیداروں نے کہا کہ 2027 کا ہدف ہر طرح سے غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
وجوہات میں شامل ہیں:
- فوجی سازوسامان کی پیداواری تاخیر
- امریکہ سے خریدے جانے والے جدید ہتھیاروں کی طویل ڈیلیوری ٹائم
- امریکہ کی مخصوص انٹیلیجنس اور جاسوسی صلاحیتیں جن کی یورپ فوری جگہ نہیں لے سکتا
نیٹو کے ایک اہلکار نے کہا کہ یورپی ممالک زیادہ ذمہ داری لینے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر انہوں نے 2027 کی ڈیڈ لائن پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ٹرمپ کی متضاد پالیسیاں
ٹرمپ انتظامیہ مسلسل کہتی رہی ہے کہ یورپ کو نیٹو میں زیادہ حصہ ڈالنا چاہیے، مگر صدر ٹرمپ کا نیٹو پر مؤقف اکثر متضاد رہا ہے۔
- مہم کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ روس کو “ان ممالک پر حملہ کرنے کی اجازت دے دیں گے جو دفاع پر کم خرچ کرتے ہیں”۔
- مگر جون میں نیٹو سمٹ کے دوران انہوں نے یورپی رہنماؤں کی تعریف کی کہ وہ دفاعی بجٹ بڑھانے پر راضی ہوئے۔
- اب حالیہ مہینوں میں وہ روس پر کبھی سخت مؤقف اپناتے ہیں اور کبھی یوکرین کے معاملے پر مذاکرات کی راہ تلاش کرتے ہیں۔
یورپی حکام نے شکایت کی ہے کہ انہیں ان مذاکرات سے بہت حد تک باہر رکھا گیا ہے۔
امریکی نائب وزیرِ خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے اس ہفتے نیٹو وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں کہا:
“یہ بات بالکل واضح ہے کہ نیٹو اتحادیوں کو یورپ کے دفاع کی ذمہ داری لینی چاہیے… ہماری حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔”
