افغانستان میں فضائی حملے، طالبان کی جانب سے پاکستان پر بٖغیر ثبوت الزامات
پاکستان سے خوست، کنٹر اور پتیکا میں فضائی حملے کئے گئے جن میں 14 افراد ہلاک ہو گئے، ذبیح اللہ مجاہد کی ہرزہ سرائی
طالبان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بغیر شواہد پیش کیے الزام عائد کیا کہ پاکستان سے افغانستان کے صوبوں خوست، کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے گئے۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بغیر شواہد پیش کیے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے صوبوں خوست، کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے، جن میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مجاہد نے دعویٰ کیا کہ خوست میں ایک گھر پر بمباری کے نتیجے میں 9 بچے اور ایک خاتون جان سے گئیں، جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں کیے گئے مبینہ حملوں میں مزید 4 افراد مارے گئے۔
یہ الزامات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب گزشتہ روز پشاور میں وفاقی کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملے میں 3 اہلکار شہید اور 12 زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری جماعت التحریر نے قبول کی ہے، جو افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا ذیلی گروہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ حکام کے مطابق تفتیش سے ثابت ہو چکا ہے کہ حملہ آور افغان شہری تھے جو سرحد پار آکر کارروائی کرتے ہیں اور انہیں افغانستان کی محفوظ پناہ گاہوں میں تربیت ملتی ہے۔
رواں ماہ اسلام آباد میں ہونے والے ایک اور حملے میں 12 افراد شہید ہوئے تھے، جس میں بھی کالعدم ٹی ٹی پی ملوث پائی گئی۔
اکتوبر میں پاک–افغان سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا، اور ترکی و قطر کی ثالثی سے بات چیت کو عارضی طور پر برقرار رکھا گیا۔ 31 اکتوبر کے مشترکہ بیان میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا، تاہم 7 نومبر کے تیسرے دور کے بعد پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اعلان کیا کہ بڑے اختلافات برقرار رہنے کے باعث مذاکرات غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیے گئے۔
مذاکرات میں تعطل کے بعد طالبان حکومت نے پاکستان سے تجارت بند کر دی، جبکہ پاکستان پہلے ہی سرحد بند کر چکا تھا۔ ترکیہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا، مگر اس کے دورے میں تاخیر جاری ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کی بحالی سرحد پار دہشت گردی کے مؤثر خاتمے سے مشروط ہے، اور علاقائی توانائی منصوبوں کا مستقبل بھی اسی شرط سے جڑا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مؤقف
آج پریس کانفرنس کے دوران افغان علاقوں پر حملوں سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے طالبان کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ "پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہے تو اس کا کھلے عام اعلان کرتا ہے۔ اکتوبر میں ہونے والی کارروائی سے متعلق بھی سب کو آگاہ کیا گیا تھا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کبھی سویلین کو نشانہ نہیں بناتا:
"ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں، اور صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ خون اور تجارت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے؛ یہ ممکن نہیں کہ ہمارے اوپر حملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی جاری رکھیں۔ ہمارا موقف افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے۔”
