Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

گرین فنانس ، وہ شعبہ جس میں چین کے اقدامات ایک اور تاریخ رقم کر رہے ہیں

چین ایک ایسے پالیسی نظام پرکام کر رہا ہے جو مارکیٹ پر مبنی طریقہِ کار سے سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کی معاونت کرتا ہے

sara afzal

                                                                                         تحریر : سارہ افضل

گرین فنانس یا سبز سرمایہ کاری  کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک مؤثر پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ، چین ایک ایسے پالیسی نظام پرکام کر رہا ہے جو مارکیٹ پر مبنی طریقہِ کار سے سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کی معاونت کرتا ہے  اور ترقی پذیر ممالک کو آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے اور سبز منتقلی میں عالمی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہے ۔ آب و ہوا کی تبدیلی سب کے لیے خطرات کا باعث بن رہی ہے ، دنیا بھر میں پالیسی سازوں اور ریگولیٹرز کے ایجنڈے پر گرین فنانس بہت زیادہ اہمیت اختیار  کر رہا ہے کیونکہ کم کاربن معیشت کی عالمی منتقلی کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چین میں  ۲۰۳۰  تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو بڑھانا اور ۲۰۶۰  تک کاربن نیوٹرل  کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہے کئی کھرب ڈالر درکار ہیں ، لیکن حکومتی فنڈز صرف طلب کے ایک حصے کو پورا کریں گے۔اتنی بڑی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی  ؟ اور  پالیسی ساز اور ریگولیٹرز تبدیلی کو آگے بڑھانے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ آئیے چین کی گرین فنانس کی ان کوششوں پر ایک نظر  ڈالتے ہیں کہ جنہوں  نے چین کو دنیا کے سب سے بڑے گرین لون اور دوسری سب سے بڑی گرین بانڈ مارکیٹ میں تبدیل کرنے میں مدد دی ہے۔

۲۰۱۶ میں ، چین کے مرکزی بینک ، پیپلز بینک آف چائنا (پی بی او سی) نے سبز مالیاتی نظام کی تعمیر کے لیے ایک گائیڈ لائن متعارف کروانے کے لیے کراس ڈیپارٹمنٹ کوآرڈینیشن کی قیادت کی ، جو کہ مرکزی حکومت کے محکموں کی جانب سے منظور شدہ اور قائم کردہ دنیا کا پہلا سبز مالیاتی پالیسی فریم ورک ہے۔سنٹرل بینک ، پی بی او سی کے مالیاتی تحقیقاتی ادارے کے نائب سربراہ لی یاؤ ن کا کہنا ہے کہ سبز ترقی صرف حکومتی کوششوں یا مارکیٹ فورسز سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔مالیات  کے تین کلیدی کردار ہیں: پالیسی ٹولز کے ذریعے اس شعبے میں مالی وسائل کا فائدہ اٹھانا ، موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ خطرات کے خلاف مالیاتی نظام کی صلاحیتوں کو بڑھانا اور قومی کاربن مارکیٹ میں تجارت کو آسان بنانا۔ ان  کرداروں کو پورا کرنے کے لیے ، چین نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ حکومت رہنمائی  کرے جبکہ مارکیٹ ،وسائل کی تقسیم میں فیصلہ کن کردار ادا کرے۔مستقبل میں ، پی بی او سی آب و ہوا سے متعلقہ خطرات کو بتدریج اپنے میکرو پروڈینشل پالیسی فریم ورک میں شامل کرے گا۔ پی بی او سی،۲۰۱۶  کی گائیڈ لائن کے بعد گرین فنانس سے متعلق ایک نئی کلیدی دستاویز پر کام کر رہا ہے ، اور اس کا مقصد یورپی یونین کے ساتھ تعاون کرنا اور اس سال پائیدار فنانس کے بین الاقوامی پلیٹ فارم کے اندر گرین فنانس پر ایک مشترکہ زمینی درجہ بندی مکمل کرنا ہے۔

کاربن کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کے لیے ایک اور  بڑا قدم ، چین کی قومی کاربن مارکیٹ  ہے، جو کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کی مقدار کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی  مارکیٹ ہے ، اس نے جولائی کے وسط میں شنگھائی میں تجارت شروع کی۔چین میں مقامی سطح پر ، چھ صوبوں میں گرین فنانس ریفارمز اور انوویٹو  پائلٹ زونز  قائم کی گئی ہیں ۔ فی الحال ، ان علاقوں میں بقایا سبز قرضوں کا تناسب قومی سطح پر چار فیصد پوائنٹس سے آگے نکل گیا ہے۔

۲۰۱۵ میں جب چین نے چین – جنوب جنوب ماحولیاتی تعاون  فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا  ،تب سے اس  نے ترقی پذیر ممالک میں کم کاربن والے زونز  اور موسمیاتی تبدیلی  سے  موافقت رکھنے والے کاربن تخفیف کے منصوبے قائم کرنے شروع کیے ہیں  تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ناصرف یہ بلکہ چین نے دیگر معیشتوں  مثلاً یورپی یونینکے ساتھ بھی کام کیا ہے تاکہ وہ سبز فنانس کے لیے ایک عالمی معیار   تیار کریں۔اس سال ایک نیا "گرین بانڈ پروجیکٹ کیٹلاگ” متعارف کرواتے ہوئے ، چینی مالیاتی حکام نے گرین بانڈ منصوبوں کی ایک معیاری تعریف فراہم کی ہے ، مختلف مقامی ریگولیٹرز کے معیارات کو یکجا کیا اور  انہیں بین الاقوامی معیار کے ساتھ بہتر کیا۔

اس سال کے آغاز  میں سنہوا یونیورسٹی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فنانشل ریسرچ کی ایک تحقیقی رپورٹ میں چین کو گرین اور کم کاربن پراجیکٹس میں درکار سالانہ سرمایہ کاری کی ضرورت  کے بارے میں جو تخمینہ لگایا گیا ہے وہ پانچ سال پہلے کے تخمینے سے تین گنا زیادہ ہے۔ تاہم چین جس ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ اس سلسلے میں سلسلہ وار اقدامات کو فروغ دے رہا ہے ان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ چین غربت کے خاتمے کے ہدف کی طرح اس شعبے میںبھی ناصرف  کامیابی سے اپنے ہدف تک پہنچے گا بلکہ ایک مرتبہ پھر دنیا کے لیے مثال قائم کرے گا اور  موقع دے گا کہ دنیا چین کے تجربات سے استفادہ کرے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More