Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

کووڈ-۱۹ کا مقابلہ کرنے کے لیے چینی ویکسینز کا دنیا میں غیر معمولی کردار

چین کا ہدف ہے کہ ۸۸ ممالک اور چار بڑی بین الاقوامی تنظیموں کو ویکسین کی امداد فراہم کی جائے

sara afzal

                                        تحریر : سارہ افضل ,بیجنگ

کورونا وائرس پوری دنیا میں لاتعداد اموات کا باعث بن رہا ہے اس لیے  تمام ممالک میں اس وائرس سے بچاو کے لیے ویکسین کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے ۔ تاہم ترقی پذیر ممالک کے لیے محدود  پیداواری صلاحیت اور دولت مند ممالک کا ویکسینز کو پہلے خرید لینا اور پھر ضرورت سے زائد خوراکیں ذخیرہ کر لینا ، ان ممالک کے لیے ویکسی نیشن کا عمل قدرے مشکل بنا رہا تھا ۔ایسی صورتِ حال میں ایشیا کے ترقی پذیر ممالک کو چینی کمپنیوں کا تعاون حاصل ہوا اور۲۰۲۱  کی پہلی ششماہی کے دوران یہ ممالک  ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔پچھلے چھ مہینوں میں جب  جنوب مشرقی اور جنوبی ایشیاء کے ممالک میں چینی ویکسینز  بیت بڑی تعداد میں پہنچ رہی تھیں  اس وقت مغربی ممالک اپنی آبادی کی ویکسی نیشن کے لیے  بڑی مقدار میں ویکسین جمع کر رہے تھے۔  نتیجتاً ، ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی فراہمی کے لیے عالمی ادارہِ صحت کے تعاون سے  قائم”کوویکس ” ، ویکسین کی منصفانہ فراہمی کے حوالے سے اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہ کر سکا

دنیا بھر میں ویکسین کی غیر متوازن تقسیم سے عالمی سطح پراس مسئلے کی گھمبیرتا بڑھی تو ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئیسیس نے کہا کہ "کوویکس "اب بھی بہت سے کم آمدنی والے ممالک کے لیے وبائی امراض پر قابو پانے کا بہترین موقع ہے۔تاہم چند ماہ قبل  جب بھارت میں کووڈ-۱۹ کی  صورتِ حال شدید بگڑ گئی تھی تو   کوویکس کے لیے ویکسین کی فراہمی میں تعطل آیا تھا  ، کیونکہ ہندوستان نے اپنے شہریوں کو ترجیح دیتے ہوئے   ویکسین تیار کرنے کے لیے اپنی توجہ کوویکس سے ہٹا کر اپنی ضروریات پر مرکوز کر دی تھی۔ عالمی ادارہِ صحت کی میڈیا بریفنگ میں ڈبلیو ایچ او کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل مارینجیلا سیماؤ نے کہا تھا کہ  ” ہندوستان سےآنے والی رسد کے حوالے سے کچھ مشکلات ہیں ۔ مختلف ویکسین بنانے والوں کے ساتھ ، اس مخصوص دوا کے اصل جز کی کمی کے حوالے سے مسائل ہیں ۔ سیماؤ کا کہنا تھا کہ ، عالمی سطح پر ایسی ویکسین لانا بے حد ضروری ہے جو محفوظ اور موثر ثابت ہو ، کیونکہ فراہمی میں بہت زیادہ عدم استحکام ہے۔ تاہم  عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ تھا کہ  ویکسین کی قلت جلد ہی ختم ہوسکتی ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت جلد ہی چین کی  سائینوفارم اور سائینوویک  ویکسین کو  ہنگامی استعمال کی فہرست میں شامل کیے جانے کی  درخواستوں پر اپنافیصلہ جاری کرے گا اور پھر اسی ہفتے عالمی ادارہِ صحت نے چینی ویکسینز کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے دی ۔ چینی ویکسین کسی بھی غیر مغربی ملک کی طرف سے پہلی ویکسین ہے  جس نے ڈبلیو ایچ او کی منظوری حاصل کی ہے۔

انڈونیشیا کو اب تک ویکسین کی۹۵  ملین خوراکیں موصول ہوچکی ہیں ، اوراس میں سے ۸۹ فی صد  چینی کمپنی سائینوویک بایوٹیک کی تیار کردہ ہیں ۔ کمبوڈیا نے ۲ چینی ویکسینز استعمال کیں اور اپنے خطے میں ویکسی نیشن کی سب سے زیادہ شرح کمبوڈیا ہی کی ہے ۔اس کی ۱۸ فیصد آبادی کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک مل چکی  ہے۔رواں ماہ فلپائن کے لیے چین سے ۵ملین سے زیادہ خوراکیں پہنچیں۔نیپال کوچینی کمپنی سائنوفارم کی تیار کردہ ویکسین کی ایک اعشاریہ ۸ملین خوراکیں موصول ہوئیں۔ جس سے ۶۰ سال سے زائد عمر کے لوگوں کی ویکسی نیشن ہو گی۔سری لنکا کو چینی حکومت کی طرف سے عطیہ کردہ سائینو فارم ویکسین کی ۲ کھیپیں موصول ہوئی  ہیں اور سری لنکا اس کمپنی سے مزید ویکسینز  خرید رہاہے۔

 بنگلہ دیش کو چین کی طرف سے عطیہ کی جانے والی ویکسین کی ۲ کھیپیں موصول ہوئی ہیں جن کی مدد سے  ملک میں ویکسی نیشن کی مہم کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملی ہے کیونکہ بھارت کی طرف سے ناقص سپلائی کی وجہ سے برآمد روک دی گئی تھی ۔ اب بنگلہ دیش کی حکومت سائنو فارم کمپنی سے ویکسین کی ۱۵ ملین خوراکیں خریدنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔اس کے برعکس  مغربی کمپنیوںکی تیار کردہ  فائزر، بائیو ٹیک اور موڈرنا جیسی ویکسینزبہت ہی مختصر تعداد میںسوائے سنگاپور جیسے دولت مند ملک کے ، باقی ایشیائی ممالک میں پہنچی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ، ایشیاء ، افریقہ ، یورپ ، اوشینیا ، لاطینی امریکہ اور کیریبین ممالک کو چینی ویکسینز  کی کم از کم ایک ایک کھیپ موصول ہوچکی ہے۔ بوسنیا اور ہرزوگوینا  وہ نئے یورپی ممالک  ہیں جنہوں نے چینی ویکسینز  کی پہلی کھیپ وصول کی۔ کمبوڈیا اور لاؤس دونوں کو سائینو فارم ویکسین کی تیسری کھیپ  موصول ہو چکی ہے  ، جبکہ مونٹی نیگرو اور ارجنٹائن کو بھی چینی ویکسین کی نئی کھیپ مل چکی ہے ۔ اپریل کے وسط میں ، چلی اور ترکی سمیت کچھ ممالک میں ہونے والی سٹڈیز  میں یہ ظاہر ہوا کہ سائنو ویکسین وائرس کے خلاف موثر ثابت ہوئی۔ اپریل کے شروع میں ، ہنگری کے حکام کی طرف سے سائینوفارم ویکسین نے پہلا (جی ایم پی) سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔مصر نے ۲۶ اپریل کو ہنگامی استعمال کے لیے سائینو ویک ویکسین کی منظوری دی جبکہ بنگلہ دیش نے ۲۹ اپریل کو ہنگامی استعمال کے لئے سائینو فارم ویکسین کی منظوری دی۔پاکستان کے لیے چین نے بڑی تعداد میں مختلف اوقات ویکسینز   کی لاکھوں خوراکیں فراہم کی ہیں اور اب تو پاکستان میں چینی ویکسین تیار کی جانے لگی ہے ، اس  کارخانے سے  ہر ماہ ۳۰ لاکھ خوراکیں تیار ہوں گی جس کے نتیجے میں دوسرے ممالک سے ویکسین کی درآمد پر انحصار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ویکسین کا پہلا بیچ مئی کے آخر میں پاکستانیوں کے لیے دستیاب ہوا جس کے بعد ملک میں ویکسینیشن کی رفتار میں بہتری آئی ہے ۔

چین کی وزارت تجارت  کے شعبہِ غیر ملکی تجارت کے سربراہ لی شنگ چیان  نے بتایا کہ چین نے ۴۰  سے زائد ممالک میں کوویڈ -۱۹ کی ویکسینز  برآمد کی ہیں اور  ۲۱ ویکسینز کلینیکل ٹرائلز میں ہیں۔چین نے جون کے اوائل تک ۶۶ممالک اور ایک بین الاقوامی تنظیم کو سرنجز سمیت ویکسین کی خوراکیں امداد کے طور پر فراہم کی تھیں۔چین کی ویکسین استعمال کرنے والے ممالک ایشیاء سے افریقہ تک پھیل چکے ہیں  جن میں پاکستان ، زمبابوے ، کمبوڈیا ، فلپائن ، سری لنکا اور یوگنڈا شامل ہیں۔وزارت نے کئی ممالک کی سرکاری انتظامیہ اور ویکسین تیار کرنے والوں کے ساتھ تعاون کیا تاکہ دوسرے ممالک کوویکسین اور سرنجز   کی فراہمی کو تیز کیا جاسکے۔

چین کا ہدف ہے کہ  ۸۸ ممالک اور چار بڑی بین الاقوامی تنظیموں کو ویکسین کی امداد فراہم کی جائے اور زیادہ سے زیادہ ممالک کو ویکسینز  تک رسائی ملے۔  گزشتہ ماہ عالمی ادارہ صحت کے اجلاس میں ، چین نے دوسرے ترقی پذیر ممالک میںکووڈ-۱۹کے ردعمل اور سماجی و اقتصادی بحالی  میں ان کا ساتھ دینے کے لیے اگلے تین سالوں میں ۳ ارب ڈالر کی اضافی بین الاقوامی امداد کا وعدہ کیا تھا۔چینی ویکسین اب افریقی ممالک سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک میں حفاظتی ٹیکوں کی مہم کا حصہ ہیں اور انہیں دنیا بھر میں زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔چین برازیل ، روس ، ہندوستان ، چین اور جنوبی افریقہ میں ویکسین ریسرچ اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے برکس ویکسین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر کے حصے کے طور پر ایک قومی مرکز قائم کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔

"پرانی چینی حکایت ہے کہ  مصیبت کے وقت کا دوست  ہی ایک سچا دوست ہوتا ہے۔ چین نے وبائی مرض  سے نجات حاصل کرنے کے لیے آغاز ہی سے کسی ایک ملک کے ساتھ نہیں بلکہ انسانیت کے ساتھ اپنی سچی دوستی کا مظاہرہ کیا ہے۔

 انڈونیشیا کےسنٹر برائے اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سینئر محقق ، ایون لکسمانہ نے وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  اس صورتِ حال نے یقینی طور پر یہ تاثر چھوڑا ہے کہ جب ہر طرف معاملات بد ترین  تھے ، تو چین نے بہتری کے لیے قدم آگے بڑھائے ۔اس خطے کے باشندے ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ چین نے کس طرح فوری طور  پر لاک ڈاون کیا ، اپنے معاملات کو قابو میں کیا اوردوسروں کو  ویکسین فراہم کی۔

چین نے ، لڑکھڑا کر تیزی سی سے سنبھلنے اور اتنی ہی تیزی سے  اپنے قدموں پر کھڑا ہونے  کے ساتھ ساتھ دوسروں کے قدم مضبوط کرنے میں ایک مرتبہ پھر سبقت حاصل کرتے ہوئے انسانی تاریخ کے باب میں حالات پر قابو پانے کی ایک شاندار مثال قائم کی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More