Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو جواب ماضی جیسا دیا جائے گا، فوج تیار ہے،اسحق ڈار

کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو جواب ماضی جیسا دیا جائے گا، فوج تیار ہے،اسحق ڈار

ہم نے سیاسی فیصلے کر لیے ہیں، ہم سیاسی طور پر سب ایک پیج پر ہیں،وزیرخارجہ کی سینیٹ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد:  وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں،کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو جواب ماضی جیسا دیا جائے گا

۔سینیٹ اجلاس سے خطاب میں وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہاکہ ہم انتظار کر رہے تھے کہ آگے کیا بات چلے گے،بھارت نے پاکستان کا براہ راست نام نہیں لیا، کوئی شواہد نہیں کہ پاکستان کو پہلگام واقعے سے لنک کیا جاتا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے سیاسی فیصلے کر لیے ہیں، ہم سیاسی طور پر سب ایک پیج پر ہیں، قرار داد کی تیاری میں تعاون پر اپوزیشن لیڈر کے شکر گزار ہیں۔اسحق ڈار نے کہاکہ سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں،26 ممالک کو بریفنگ دی اور حالات سے آگاہ کیا۔

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پانی 24 کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن ہے،قومی سلامتی کمیٹی کہہ چکی پانی بند کرنا جنگ کے مترادف ہو گا، سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا، معاہدے میں لکھا ہے کہ اسے ختم کرنا ہے تو اتفاق رائے سے ہو گا۔

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ قوم نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں، 26 ممالک کو کل بریفنگ دی اور حالات سے آگاہ کیا، دیگر کو آج بریفنگ دی جائے گی، آج سعودی وزیرِ خارجہ سے شام 7 بجے بات ہو گی۔

نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو یکسر مسترد کرتے ہیں، پانی 24 کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن ہے، قومی سلامتی کمیٹی کہہ چکی پانی بند کرنا جنگ کے مترادف ہو گا، سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا، معاہدے میں لکھا ہے کہ اسے ختم کرنا ہے تو اتفاقِ رائے سے ہو گا۔

اسحاق دار کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے تمام تجارت معطل کردی ہے، اٹاری بارڈر بند کرنے پر پاکستان نے جوابی طور پر واہگہ بارڈر کو بند کیا، بھارتی ہائی کمیشن میں موجود دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث سارک تنظیم غیر فعال ہے، کہاکہ اس خطے میں امن اور ترقی نہیں ہو رہی، اس کی ایک بڑی وجہ بھارت ہے، سارک چاہتا ہے کہ ترقی ہو لیکن ایک ملک کی ہٹ دھڑمی اس کو آگے نہیں جانے دیتی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More