Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

چین میں ” سمر ڈے کیئرز ” ، ایک عوامی خدمت جو والدین کے لیے مالی بوجھ نہیں بنتی

چینی حکومت اور چینی عوام ایک خوشحال چین کی تعمیر کے لیے متحد ہیں

 

sara afzal

                                                                                      تحریر: سارہ افضل

 

کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) چینی عوام کی خدمت کرنے کے لیے بے حد پرعزم ہے ، اور پارٹی کی کامیاب حکمرانی کا ایک "بہت ہی حقیقی پیمانہ اور ثبوت” "اوسط چینی شہریوں کی خوشحالی” ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ چینی حکومت اور چینی عوام ایک خوشحال چین کی تعمیر کے لیے متحد ہیں۔ لوگ دن رات انتھک محنت کرتے ہیں، ان کا مقصد ، ناصرف اپنے لیے بلکہ اپنے بچوں کے لیے بھی ایک بہتر زندگی اور روشن مستقبل ہے۔ مختلف پیشوں سے وابستہ والدین کی ضروریات  کو سمجھتے ہوئے چینی حکومت نے بچوں کی تعلیم و تربیت اور فلا ح و بہبود کے لیے  مختلف اقدامات  کیے تاکہ والدین  ذہنی سکون کے ساتھ کام کرسکیں اور ان کے بچے تعمیری اور محفوظ ماحول میں معیاری وقت گزاریں۔

سال ۲۰۲۱ میں ، جب چینی تعلیمی حکام نے گرمیوں کی تعطیلات کے دوران اسکول جانے والے  طلباء کے لیے  سمر ڈے کیئرز کو فعال کیا  تو یہ ایک مقبول رحجان کی صورت اختیار کر گیا ۔ گرمیوں کی طویل چھٹیوں میں یہ ” سمر ڈے کیئرز ”  مصروف والدین کے لیے بہترینانتخاب ہیں ۔ جولائی کے اوائل میں ، وزارت تعلیم نے ایک نوٹس جاری کیا جس میں مقامی حکام سے کہا گیا کہ وہ  قابل اور بڑےبچوں کو  ترغیب دیں کہ وہ آگے آئیں اور ان اسکول جانے والے  بچوں کی دیکھ بھال کے

 ساتھ ساتھ  ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے ان بچوں کی کردار سازی اور اعتماد سازی میں مدد دیں ۔شنگھائی سمیت کئی جگہوں پر اس سلسلے میں زبردست پیش رفت ہوئی ، ۵ جولائی سے۱۳  اگست تک ، پوری میونسپلٹی میں ۵۴۳  ڈے کیئر پروگرام  کا آغاز ہوا، جن سے تقریبا،۴۰ ہزار  طلباء مستفید ہوئے۔ ان ۵ سو سے زائد پروگرامز میں سے  ۴۰۷ ڈے کیئر پروگرام اسکول کیمپسز ہی  میں منعقد ہوئے۔

 یہاں اس بات کی نشاندہی کرنا ضروری ہے کہیہ پروگرامز ہمارے یہاں کے ” نجی اسکولز کے سمر کیمپس ” یا ٹیوشن سینٹرز سے بے حد مختلف ہیں یہ نجی شعبے میں نہیں بلکہ مرکزی اور مقامی حکومتوں کی نگرانی میں چلتے ہیں ۔ ” سمر ڈے کیئر” کی طرح کے پروگرامز  کئی شہروں  میں مقامی تعلیمی محکموں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ برسوں سے جاری ہیں۔ صوبہ ہینان نے عوامی فلاح و بہبود کے سمر ڈے کیئر  کورسز  شروع کر رکھے ہیں جنہیں والدین نے بے حد پسند کیا اور ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا  ۔ یہاں بہت سے تارکین وطن مزدور ہیں جن کے پاس اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے وقت نہیں ہے خاص طور پر جب اسکولز میں چھٹیاں ہوتی ہیں تو والدین کی پریشانی بڑھ جاتی ہے کیونکہ  چھوٹے بچے اپنی دیکھ بھال نہیں کر سکتے  اور والدین کے لیے انہیں  گھر پر تنہا چھوڑنا بھی نامناسب اور غیر محفوظ  ہے۔ اس لیے ان سمر ڈے کیئرز  سے وہ مطمئن ہیں کیونکہ یہاں پر بچے اپنے اسکول کی کتابیں نہیں پڑھتے مگر  زندگی  گزارنے کی مہارتیں اور  کچھ ہنر  سیکھتے ہیں   ، نئے خیالات  کو عملی شکل میں ڈھالتے ہیں اور محفوظ ماحول میں جسمانی سرگرمیوں میں خود کو مصروف رکھتے ہیں اور یہ سب ان کی کردار سازی اور جسمانی و ذہنی نشو نما کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ان کی نصابی کتب اہم ہیں ۔ان  کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ  ضلع جیانگ میں ان ڈے کیئر سینٹرز  میں بچوں کی شرکت کا سلسلہ سال بہ سال بڑھا ہے ، اس میں شریک طلباء کی تعداد پہلے سال ۶۰۰ تھی جو اس سال   بڑھ کر اس سال۲۶۰۰ سے زائد ہو گئی ہے ۔

 ملک کے تعلیمی حکام نےاس بات کو بھی  یقینی بنایا ہے کہ ڈے کیئر پروگرامز والدین کے لیے مالی بوجھ  نہ بنیں بلکہ یہ ” عوامی خدمت ” ہی رہیں۔ ملک بھر کے منتظمین نے اس اصول پر سختی سے عمل کیا ہے۔ صوبہ شانشی میں سمر ڈے کیئرز میں یومیہ ۵۰ یوآن فیس مقرر کی گئی ہے جو بے حد کم اور مناسب ہے تاہم  مالی مشکلات سے دوچار خاندانوں کے طلباء کے لیے یہ سہولت بھی ہے کہ وہ  ڈے کیئر کورسز میں بغیر کسی فیس کے بھی شرکت کر سکتے ہیں۔

ڈے کیئر پروگرام کا انتظام و انصرام اتنا آسان نہیں ہے ، مختلف کالجز اور جامعات کے طلبہ رضاکارانہ طور پر ان پروگرامز کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں تاہم آرگنائزر کے لیے  مختلف عمروں کے طلبا کی صلاحیتوں اور ضروریات  سے واقف ہونا ضروری ہے  اور  انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ انہیں کس چیز کی زیادہ ضرورت ہے ، اس سلسلے میں  بچوں کو ان کی عمر اور صلاحیتوں کی بنیاد پر مختلف گروپس میں تقسیم کرنا اور ترتیب کے مطابق کورسز ڈیزائن کرنا   بے حد اہم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی پیشہ ور  اساتذہ  اور ماہرینِ تعلیم بھی ان پروگرامز کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں تاکہ وہ نوجوان رضاکاروں کی حوصلہ افزائی ہو اور ان کی محنت کے مثبت نتائج سامنے آئیں ۔

اس سب سے یہ رائے قائم کر لینا کہ والدین تو اب اپنی ذمہ داری سے دست بردار ہوگئے ، درست نہیں ہے ۔ بچوں کی ڈے کیئر پروگراموں میں شرکت کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ والدین ذمہ داریوں سے آزاد ہیں والدین اپنے بچوں کے ڈے کیئر اوقات اور تفریحی اوقات میں توازن رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ ان پروگرامز کے نگران بچوں کی ڈے کیئر کے بعد کی مصروفیات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور والدین کے ساتھ ان کی بچے کی صلاحیتوں اور مسائل کے حوالے سے رابطے میں رہتے ہوئے صلاح مشورہ بھی کرتے ہیں اور والدین  کے کردار کے حوالے سے رہنمائی بھی کرتے ہیں ۔ یہ ایک مکمل ” میکانزم ” ہے اور ایک ترقی پسند ، خوشحال اور مہذب معاشرہ  اسی طرح کام کرتا ہے کہ عوام ، مقامی حکومتیں اور پبلک سیکٹر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر اپنی اپنی استعداد کے مطابق کام کرتے ہیں ، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے  ہیں آگے بڑھتے ہیں اور مرکزی حکومت ان کو ہر طرح سے سہولت دیتی ہے ، حوصلہ افزائی کرتی ہے  اور ان کے قدم مضبوط کرتی ہے۔ اسی طرح معاشرے میں وہ  مثبت اور تعمیری تبدیلی نظر آتی ہے جو حقیقی معنوں میں مستقبل کی راہ کو روشن کرتی  ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More