Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پنجاب میں سیلاب سے ہر طرف تباہی ، 28 افراد جاں بحق ، 14 لاکھ افراد متاثر

پنجاب میں سیلاب سے ہر طرف تباہی ، 28 افراد جاں بحق ، 14 لاکھ افراد متاثر

کھڑی فصلیں تباہ ، مویشی بارش کی نذر ، سیالکوٹ میں دوبارہ سیلاب کا خدشہ

سیلاب نے پنجاب میں تباہی مچا دی ، کئی اضلاع کے 1470 سے زائد ھاؤں زیرآب آ گئے ، 14 لاکج متاٹر م کھڑی فصلیں تباہ اور مال مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے ، 28 افراد اپنی قیمیتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق جھنگ شہر کو بچانے کے لیے دریائے چناب میں سیلاب کے پیش نظر رواز پل کے قریب شگاف ڈال دیا گیا۔

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق دریائے چناب کے پاٹ سے شہریوں کے انخلاء کو یقینی بنا لیا گیا ہے۔ فیصل آباد اور جھنگ انتظامیہ الرٹ رہے اور تمام افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔

دوسری جانب، دریائے راوی کے بھپرنے سے لاہور کے اطراف کئی دیہات زیر آب آگئے جبکہ چند مضافاتی علاقوں میں بھی پانی داخل ہوا۔

تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹر سٹی اور چوہنگ ایریا سے محفوظ انخلا مکمل کر لیا گیا۔ طلعت پارک بابو صابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے۔

پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے چار بلاک میں پانی داخل ہوا تو رہائیشیوں کو بروقت نکال لیا گیا۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے۔

دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 16 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا اور خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 84 ہزار کیوسک ہے۔ قادر آباد کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 85 ہزار کیوسک ہے۔

چنیوٹ برج پر بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، دریائے چناب میں چنیوٹ برج کے مقام پر پانی کا بہاؤ 8 لاکھ 55 ہزار کیوسک ہے۔

ہیڈ تریمو کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ کیوسک ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا پہے۔

دریائے راوی جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 84 ہزار کیوسک ہے۔ شادرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 84 ہزار کیوسک ہے اور بہاؤ میں کمی آ رہی ہے۔

بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 64 ہزار کیوسک ہے اور اضافہ ہو رہا ہے۔ راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 29 ہزار کیوسک ہے۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے اور بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سلیمانکی کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 18 ہزار کیوسک ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا اور ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ 1955 کے بعد ستلج میں یہ صورتحال دیکھنےکو ملی ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ سارا پانی بھارت میں بند ٹوٹنےکےسبب قصور کی طرف بڑھا، ہمیں قصورکوبچانےکے لیےموجود بند میں شگاف کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہیڈ سلیمانکی کے بعد ہمیں ہیڈ اسلام پر بھی خطرہ درپیش ہوگا، جبکہ اوکاڑہ اور ساہیوال کو دریائے راوی میں سیلاب کے پیش نظرخطرہ ہوگا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ہمیں تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اب تک 28 اموات ہوچکی ہیں، لیکن تمام جگہ ریسکیو عملے نے بروقت آپریشن کیا۔

ریلیف کمشنر پنجاب نے کہاکہ اوکاڑہ، پاکپتن اور ملحقہ علاقوں کے لیے اب مسائل پیدا ہونےکا خطرہ ہے، تمام حکومتی وسائل کوبدلتےحالات کے مطابق بروئےکار لایاجائےگا۔

نبیل جاوید نے کہا کہ ہماری کوشش ہےکہ تمام متاثرہ علاقوں سے انخلا کویقینی بنایا جائے۔

پنجاب میں حالیہ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔

دریائے چناب، راوی، ستلج، جہلم اور سندھ سے ملحقہ علاقوں سے 3 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ مجموعی طور پر صوبے بھر سے 45 ہزار سے زائد افراد کا انخلاء ممکن بنایا گیا ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گجرات، گجرانوالہ، منڈی بہاالدین، حافظ آباد، نارووال، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن شامل ہیں۔ پنجاب کے 30 اضلاع میں جاری ٹرانسپورٹیشن آپریشن میں 669 بوٹس اور 2861 ریسکیورز شریک ہیں۔

 منڈی بہاالدین کے علاقے کالا شیدیاں سے 816 اور حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 625 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

ننکانہ صاحب میں 1553 افراد کو سیلابی پانی سے بحفاظت نکالا گیا، جن میں 568 خواتین اور 318 بچے بھی شامل ہیں۔

متاثرہ دیہاتوں سے 2392 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ننکانہ صاحب میں ریسکیو آپریشن کے لیے 14 بوٹس، 93 ریسکیو ورکرز اور 122 رضاکار سرگرم عمل رہے۔

سیلاب متاثرین کے لئے قائم 7 ف؛ڈ ریلف اور شیلٹر کیمپس میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر علاج ، خوراک اور دیگر سہولیات کے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More