پاکستان نے بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کے حالات کو برابر قرار دینا گمراہ کن قرار دیے دیا
پاکستان کی بقا اور ترقی کیلئے ضروری پانی کو جان بوجھ کر روکنے کی کوئی بھی کوشش دور رس نتائج کی حامل ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ
مشرق وسطی و خلیجی خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش ہے، فریقین جنگ بندی معاہدوں کا احترام،تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں، ترجمان طاہر اندرانی کی ہفتہ وار پریس بریفنگ
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی بقا اور ترقی کیلئے ضروری پانی کو جان بوجھ کر روکنے کی کوئی بھی کوشش دور رس نتائج کی حامل ہوگی،مشرق وسطی و خلیجی خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش ہے، فریقین جنگ بندی معاہدوں کا احترام کریں اور تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پانی کو روکنے یا اس میں نمایاں کمی لانے کی کوئی بھی کوشش جو 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی روزی روٹی، زراعت اور فلاح و بہبود کیلئے ناگزیر ہے، انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا، ایسا اقدام سرحد پار دریاں سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں اور پاکستان و بھارت کے درمیان موجود دوطرفہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہوگا۔ترجمان نے واضح کیا کہ پانی روکنے کے کسی بھی اقدام کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا،یہ ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51کے تحت جنگی اقدام کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے ان حقوق کے دفاع کے لیے سفارتی، سیاسی، قانونی، اقتصادی اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دستیاب دیگر تمام ذرائع کو بھرپور انداز میں استعمال کرے گا۔دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، بھارت غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ صومالیہ میں پاکستانی شہری تقریبا 50روز سے قزاقوں کے قبضے میں ہیں، جن کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان تمام ممکنہ سفارتی اور ادارہ جاتی سطح پر کوششیں کر رہی ہے، تاہم صورتحال انتہائی پیچیدہ ہونے کے باعث اب تک پیش رفت محدود رہی ہے۔ترجمان کے مطابق یرغمال پاکستانی شہری ایک کارگو جہاز پر موجود ہیں، جن کے ساتھ دیگر ممالک کے عملے کے ارکان بھی شامل ہیں، حکومت پاکستان مسلسل اس معاملے پر صومالی حکام، مقامی فریقین اور جہاز کے مالک سے رابطے میں ہے تاکہ یرغمالیوں کی جلد از جلد بحفاظت واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل صومالی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے نہ صرف پاکستانی شہریوں بلکہ دیگر یرغمال افراد کی صورتحال بہتر بنانے پر بھی زور دیا، اس موقع پر پاکستان نے اس معاملے پر اپنی شدید تشویش سے آگاہ کیا اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔طاہر اندرابی کے مطابق اسلام آباد میں صومالی سفیر کو بھی طلب کر کے اس معاملے پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ وزارت خارجہ میں اس حوالے سے بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں تاکہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان نے مشرق وسطی اور خلیجی خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں کا احترام کریں اور تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کا موقف ہے کہ خطے کے تمام دیرینہ مسائل کا حل صرف بات چیت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، پاکستان ہمیشہ سے پرامن حل اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کرتا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہیں تاکہ امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے، پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی بھی نئی کشیدگی سے خطے میں انسانی جانوں کے نقصان اور عدم استحکام سے بچا جا سکے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف کے مطابق تمام تنازعات کے پرامن حل اور مذاکراتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا، اور خطے میں استحکام کے لیے تعمیری سفارت کاری میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
