Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران امارات کا دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی ، اسرائیلی وزیراعظم آفس

نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران امارات کا دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی ، اسرائیلی وزیراعظم آفس

اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات کا ایک خفیہ دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے اماراتی صدر Mohamed bin Zayed Al Nahyan سے اہم ملاقات کی۔ یہ دعویٰ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں سامنے آیا، جس میں اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ دورہ مکمل طور پر غیر اعلانیہ تھا۔

اسرائیلی حکومت کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل ایران کے خلاف اپنے فوجی آپریشن ’’شیر کی دھاڑ‘‘ میں مصروف تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس خفیہ ملاقات کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں نمایاں اور تاریخی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس اعتراف نے خطے میں جاری سفارتی اور عسکری روابط کی نئی جہت کو نمایاں کر دیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران وزیراعظم نیتن یاہو نے براہ راست اماراتی قیادت سے ملاقات کی۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی خبریں تو سامنے آتی رہی تھیں، لیکن اس نوعیت کی اعلیٰ سطحی ملاقات کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، ایران کے خلاف ممکنہ جنگی تعاون اور دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے میزائل و ڈرون خطرات پر بھی گفتگو کی۔ تاہم متحدہ عرب امارات کے حکام نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا۔

اسی دوران امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران جنگ کے دوران اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان عسکری اور انٹیلی جنس تعاون غیر معمولی حد تک بڑھ گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے امارات کو جدید دفاعی معاونت فراہم کی، جس میں ’’آئرن ڈوم‘‘ دفاعی نظام سے متعلق تعاون اور فوجی ماہرین کی فراہمی بھی شامل تھی تاکہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس میں مزید انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ David Barnea نے بھی مارچ اور اپریل کے دوران متحدہ عرب امارات کے کئی خفیہ دورے کیے۔ ان ملاقاتوں میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی پر بات چیت کی گئی۔

بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کے درمیان ٹیلیفونک رابطے بھی ہوئے تھے۔ ان رابطوں میں اسرائیل نے امارات کی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ہونے والے Abraham Accords کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔ اس معاہدے کے بعد امارات پہلا خلیجی ملک بن گیا تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ کھلے طور پر تجارتی، سفارتی اور دفاعی تعاون شروع کیا۔ اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس پر خطے کے کئی ممالک اور عوامی حلقوں میں شدید تنقید بھی کی گئی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More