نعیمہ بٹ کو نظر انداز کیوں کیا گیا، تلخ تجربات بتا دئیے
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی اداکارہ نعیمہ بٹ نے حالیہ گفتگو میں اپنی زندگی کے ایک مشکل اور غیر متوقع دور کا ذکر کیا، جہاں انہیں شہرت کے باوجود پیشہ ورانہ تنہائی اور نظرانداز کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈرامہ “کبھی میں کبھی تم” میں ’رباب‘ کے کردار سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ نے بتایا کہ اسی دوران ان کی ذاتی زندگی میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب انہوں نے اپنے ایک قریبی عزیز کو کھو دیا، جس نے انہیں گہرے ذہنی صدمے میں مبتلا کر دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت وہ نیویارک میں موجود تھیں، مگر شوٹنگ کے شیڈول کی وجہ سے انہیں فوری طور پر پاکستان واپس آنا پڑا۔ شدید ذہنی دباؤ کے باوجود انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے شوٹنگ مکمل کی۔
نعیمہ بٹ کے مطابق سیٹ پر کام کا ماحول تو مجموعی طور پر مثبت رہا، لیکن جب ان کے کردار کو غیر معمولی مقبولیت ملی اور انہیں مختلف پروگرامز میں شرکت کی دعوتیں ملنے لگیں تو وہ اپنے ساتھی فنکاروں اور پروڈیوسرز سے زیادہ تعاون کی امید کر رہی تھیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورتحال اس کے برعکس رہی، جس نے انہیں حیران کیا۔ اس دوران وہ کئی مواقع پر خود کو تنہا اور نظرانداز محسوس کرتی رہیں، جو ان کے لیے ایک تلخ اور غیر متوقع تجربہ ثابت ہوا۔
اداکارہ نے واضح کیا ہے کہ ’کبھی میں کبھی تم‘ کی ریکارڈنگ کے دوران ساتھی اداکاروں کے ’دوغلے پن‘ کا سامنا کرنے کی بات کرتے وقت انہوں نے ہانیہ عامر یا فہد مصطفیٰ کا نام نہیں لیا تھا۔
نعیمہ بٹ نے کچھ دن قبل بتایا تھا کہ عام طور پر شوبز انڈسٹری کی دوستیاں دکھاوا ہوتی ہیں، وہ صرف سوشل میڈیا تک محدود رہتی ہیں۔ انہوں نے بھی ’کبھی میں، کبھی تم‘ کی شوٹنگ کے دوران دوغلے پن اور دکھاوے کی دوست کو نوٹ کیا اور زندگی بھر کے لیے سبق سیکھ گئیں کہ ہر دکھاوا دوستی نہیں ہوتی۔
انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ’کبھی میں، کبھی تم‘ کی شوٹنگ کے دوران جو اداکار کیمرے کے ساتھ ان کے ساتھ اچھا رویہ رکھتے تھے، کیمرا بند ہوتے ہی ان کا رویہ تبدیل ہوجاتا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کیمرا بند ہونے کے بعد انہیں ایک ساتھ اسٹیج پر آنے تک نہیں دیا جاتا تھا۔انہوں نے اس وقت کسی بھی ساتھی اداکار کا نام نہیں لیا تھا اور اب انہوں نے ایک نئے انٹرویو میں اس حوالے سے مزید وضاحت کی ہے۔
