ماحولیاتی تبدیلی: پاکستان میں گرم ترین مہینے کا 65 سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کے قریب
صورت حال خطرناک ، مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو آئندہ مہینے مزید شدید ثابت ہو سکتے ہیں ، ماہرین
محکمہ موسمیات کے مطابق اپریل 2025ء ملک کے 65 سالہ موسمیاتی ریکارڈ میں دوسرا گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے
اسلام آباد: ملک میں ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے اثرات خطرناک حد تک شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں سال اپریل کا مہینہ ملکی تاریخ کے گرم ترین مہینیوں میں شامل ہو گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اپریل 2025ء ملک کے 65 سالہ موسمیاتی ریکارڈ میں دوسرا گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے۔ اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ اپریل کے دوران درجہ حرارت اوسطاً معمول سے 3.37 ڈگری سینٹی گریڈ زائد ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ ماہ (اپریل میں) دن کے وقت گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور اوسط درجہ حرارت معمول سے 4.66 ڈگری زائد رہا۔ اسی طرح راتوں کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا، جو معمول سے 2.57 ڈگری زیادہ ریکارڈ ہوا۔
ملک کا سب سے گرم دن 17 اپریل کو شہید بںطیر آباد میں ریکارڈ کیا گیا جہاں درجہ حرارت 49 سینیٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق یہ گرمی صرف درجہ حرارت تک محدود نہیں رہی بلکہ بارشوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اپریل کے دوران ملک میں بارشوں کی شرح معمول سے 59 فیصد کم رہی، جس نے خشکی اور موسمی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین اس صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آئندہ مہینے مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
