Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سندھ طاس معاہدہ: بھارت چاہ کر بھی اس معاہدے سے نہیں نکل سکتا

سندھ طاس معاہدہ: بھارت چاہ کر بھی اس معاہدے سے نہیں نکل سکتا

ایک تاریخی اور بین الاقوامی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں طے پایا۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا تھا تاکہ مستقبل میں پانی کے مسئلے پر کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔

پاکستان اور بھارت کے نمائندوں کے درمیان برسوں کے مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ  طاس معاہدہ، ستمبر 1960 میں عمل میں آیا تھا ۔

سندھ طاس معاہدے پر اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے سربراہ مملکت فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے کراچی میں دستخط کئےتھے دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود 62 برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔ ‘

سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کو پاکستان کے کنٹرول میں دیا گیا۔ اس کے تحت ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔

بھارت کو ان دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن اسے پانی ذخیرہ کرنے یا اس کے بہاؤ کو کم کرنے کا حق نہیں ہے۔ مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول انڈیا کے ہاتھ میں دیا گیا۔ انڈیا کو ان دریاؤں پر پراجیکٹ وغیرہ بنانے کا حق حاصل ہے جن پر پاکستان اعتراض نہیں کر سکتا۔

دونوں ملکوں کے ماہرین نے سلال ڈیم کا تنازع 1978 میں حل کیا۔ پھر بگلیہار ڈیم کا معاملہ سامنے آیا۔ اسے عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانبدار ثالث کی مدد سے 2007 میں حل کیا گیا۔ کشن گنگا پراجیکٹ بھی ایک متنازع پراجیکٹ تھا یہ معاملہ عالمی ثالثی عدالت تک پہنچا۔ 2013 میں وہاں سے فیصلہ ہوا۔ ان تنازعات کے حل میں سندھ کمیشن کے اجلاسوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

 معاہدے کی اہم تفصیلات:

  1. دستخط کنندگان:

پاکستان کے سربراہ مملکت فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان

بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو

اور عالمی بینک اس معاہدے کا ضامن اور ثالث تھا۔

  1. تاریخ:

یہ معاہدہ 19 ستمبر 1960ء کو طے پایا۔

  1. دریاؤں کی تقسیم:

معاہدے کے مطابق، چھ دریا جو انڈس بیسن کا حصہ ہیں، ان کی تقسیم یوں کی گئی:

بھارت کو دیے گئے دریا:

ستلج

بیاس

راوی

یہ مشرقی دریا ہیں اور بھارت کو ان پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔

پاکستان کو دیے گئے دریا:

سندھ (Indus)

جہلم

چناب

یہ مغربی دریا ہیں اور ان پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا۔

  1. دیگر شرائط:

بھارت مغربی دریاؤں پر کچھ مخصوص قسم کے منصوبے (جیسے پن بجلی کے بغیر ذخیرہ یا محدود مقدار میں پانی ذخیرہ کرنا) بنا سکتا ہے، لیکن وہ پاکستان کے پانی کے حقوق کو متاثر نہیں کر سکتے۔

کسی بھی نئے منصوبے پر اعتراض کی صورت میں دونوں ممالک کو بات چیت، ثالثی اور اگر ضرورت ہو تو عالمی ثالثی عدالت کا سہارا لینا ہوگا۔

تنازعات:

وقتاً فوقتاً بھارت کے مختلف ڈیم یا پن بجلی منصوبوں (جیسے باغلیہار ڈیم یا کشن گنگا ڈیم) پر پاکستان نے اعتراضات کیے ہیں، اور معاملہ عالمی عدالت یا ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 

پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بھارت کی سازش کھل کر سامنے آگئی

 

حملے کا بے بنیاد الزام عائد کر کے بھارت نے یکطرفہ اقدامات کر کے آبی جارحیت شروع کردی

یہ مذموم حرکت 1960کے سندھ طاس کی کھلم کھلا خلاف ورزی،دونوں ملک تحریری طورپر متفق نہ ہوں تومعاہدہ ختم نہیں ہو سکتا،ذرائع

اسلام آباد:  بھارت کی پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان کے خلاف سازش کھل کر سامنے آ گئی۔تفصیلات کے مطابق پہلگام فالس فلیگ حملے کے پیچھے چھپے بھارتی محرکات کھل کر اس وقت سامنے آئے جب وزیر خارجہ نے سفارتی تعلقات اور سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

ذرائع کے مطابق پہلگام حملے کے بعد بھارت کی آبی جارحیت کھل کر سامنے آگئی جبکہ بھارت کسی بھی طرح قانونی طور پر اس معاہدے کو یک طرفہ ختم نہیں کر سکتا۔ہندوستان نے اپنا غیر ذمہ دارانہ اور مذموم چہرہ دنیا کو دکھا دیا اور پہلگام فالس فلیگ کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر یک طرفہ معطل کر دیا۔ذرائع کے مطابق یہ مذموم حرکت 1960کے سندھ طاس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے کیونکہ معاہدے کی شق نمبر12۔ (4)کے تحت یہ معاہدہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جبکہ دونوں ملک تحریری طور پر متفق نہ ہوں۔

ذرائع کے مطابق بھارت  نے بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے یہ انتہائی اقدام اٹھایا،سندھ طاس معاہدے کے علاوہ بھی انٹرنیشنل قانون کے مطابق Upper riparian, lower riparian کے پانی کو نہیں روک سکتا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں دریائے سندھ اور دیگر دریاوں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کیلئے سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا، جس میں عالمی بینک بھی بطور ثالت شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کی روح سے بھارت یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ معطل نہیں کر سکتا جبکہ انٹرنیشنل واٹر ٹریٹی بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت شدہ معاہدہ ہے۔ذرائع نے بتایاکہ  انٹرنیشنل معاہدے کو معطل کر کے بھارت دیگر معاہدوں کی ضمانت کو مشکوک کر رہا ہے، ہندوستان اس طرح کے نا قابل عمل  اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کر کے اپنے اندرونی بے قابو حالات سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More