دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت کرتے ہیں ۔ چینی صدر
ملاقات میں شہبازشریف نے ایس سی او اجلاس کے کامیاب انعقاد پر صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دی
بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔
شنھگائی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 25ویں اجلاس میں شرکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف پیر کو بلٹ ٹرین کے ذریعے تیاجن سے بیجنگ پہنچے۔ انہوں نے بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپلز میں عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ اپنی انتہائی خوشگوار ملاقات کے دوران، دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور چین کے درمیان آہنی اور ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دی اور دنیا کی فسطائیت مخالف جنگ کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ صدر شی جن پنگ بصیرت اور قیادت جس کی بدولت چین نے جدیدیت اور ترقی کی منازل طے کیں، کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو چین کی کامیابیوں پر بہت فخر ہے اور وہ اس عظیم سفر میں چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے گا۔
وزیراعظم نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے صدر شی کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی)کے ایک اہم منصوبے کے طور پر چین -پاکستان اقتصادی راہداری کی اہمیت کو سراہا اور سی-پیک کے اپ گریڈ شدہ اگلے مرحلے، جن میں پانچ مزید راہداریوں کا اضافہ کیا گیا ، کے کامیاب نفاذ کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کی خواہش کا اعادہ کیا۔ ان اقدامات سے دونوں ممالک کو ایک مشترکہ مستقبل کے ساتھ مزید مضبوط پاکستان چین کمیونٹی بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعظم نے کثیرالجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے صدر شی جن پنگ کے پختہ عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں صدر شی جن پنگ کے تاریخی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے جس میں گلوبل گورننس انیشیئیٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیئیٹو، گلوبل سکیورٹی انیشیئیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیئیٹو شامل ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات اجتماعی عالمی بھلائی کے لیے ضروری ہیں اور علاقائی اور عالمی امن، استحکام اور ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔ صدر شی نے کہا کہ چین اقتصادی ترقی کے تمام شعبوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھے گا، خاص طور پر جب کہ سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے تحت پاکستان کے اہم ترین اقتصادی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کے ممالک کے درمیان تعلقات منفرد اور بے مثال ہیں اور اس کی عکاسی ان کے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے ذریعے ہونی چاہیے۔
دونوں رہنمائوں نے اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس سلسلے میں پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو اگلے سال پاک-چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کے موقع کے پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کے لیے اپنی انتہائی پرخلوص دعوت کی تجدیدکی۔
