دنیا سیاسی مفادات کے لئے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے جھوٹے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتی، وزیراعظم
پاکستان نے بلاجواز بیورنی جارحیت کا سامنا کیا جو ایسے ملک کی طرف سے تھی جو مسلسل پڑوسیوں کی خود مختاری پامال کرتا رہا ہے
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا سیاسی مفادات کے لئے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے جھوٹے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتی م پاکستان نے بلاجواز بیورنی جارحیت کا سامنا کیا جو ایسے ملک کی طرف سے تھی جو مسلسل پڑوسیوں کی خود مختاری پامال کرتا رہا ہے
وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیانجن میں موجودگی میرے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیانجن چین کی بنیادی قدروں کی نمائندگی کرتا ہے اور تہذیبوں و ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ ہم یہاں اسی جذبے کی تجدید کے لیے جمع ہوئے ہیں جسے چین نے عملی شکل دی ہے۔
وزیر اعظم نے شاندار انتظامات پر صدر شی جن پنگ اور چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایس سی او پاکستان کے دیرپا عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کی عالمی قیادت نہ صرف ایس سی او بلکہ تمام نمایاں اقدامات میں دکھائی دیتی ہے۔ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی موجودگی نے اجلاس کو مزید اہمیت دی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی، مکالمے اور سفارت کاری کی طاقت پر یقین رکھتا ہے۔ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور جو ملک ان “سرخ لکیروں” کا احترام نہیں کرتا وہ امن اور عالمی نظام کے لیے خطرہ ہے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ چند ماہ کے دوران خطے میں افراتفری دیکھی گئی، پاکستان تمام پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہشمند ہے، پاکستان پورے خطے میں امن واستحکام دیکھنا چاہتا ہے، خطے میں پائیدار امن کیلئے جامع بات چیت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ کشیدگی کے بجائے ڈائیلاگ چاہتا ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے حالات دنیا کا ضمیر جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہیں، پاکستان غزہ میں دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ ایران پر اسرائیل کی بلاجواز جارحیت قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔
شہبازشریف نے مزید کہا کہ شاندار میزبانی اور بھرپور انتظامات پر صدر اور حکومت چین کا شکرگزار ہوں، ازبکستان اور کرغزستان کو ان کے یوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتاہوں۔ ایس سی او علاقائی تعاون و انضمام کے فروغ کیلئے پاکستان کے دیرپا عزم کی عکاس ہے۔ چین کی کامیابی صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ اور بصیرت افروز قیادت کی عکاس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کیلئے خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں، پاکستان ایس سی او ارکان اور ہمسایہ ممالک کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان ایک بہترین منصوبہ ہے، ہم تمام بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کا احترام کرتے ہیں۔
ایس سی او سربراہی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان شدید بارشوں، گلوبل وارمنگ، کلاؤڈ برسٹ اور تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہے، سیلاب نے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کیا ہے۔ سیلاب سے انفرااسٹرکچر،جائیداد،فصلوں اور مویشیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ہم سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے نئی امید کا راستہ تراش رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے پانی کو ہتھیار بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی عوام کی زندگی کی لکیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اقوام متحدہ اور ایس سی او کے چارٹرز پر عمل کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔
شہباز شریف نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر بلاجواز جارحیت کو قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ یہ تنازع جان بوجھ کر اس وقت بھڑکایا گیا جب ایران امن مذاکرات کے قریب تھا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری ظلم اور بھوک ہمارے اجتماعی ضمیر پر نہ ختم ہونے والا زخم ہے، اور بھوک و محرومی انسانی حقوق اور انصاف کے آفاقی اصولوں کی توہین ہیں۔
انہوں نے اس ظلم و خونریزی کے فوری خاتمے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ متنازعہ علاقوں کی حیثیت کو یکطرفہ طور پر بدلنے کی ہر کوشش کی مذمت ہونی چاہیے۔ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اور پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا ان ممالک کے جھوٹے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتی جو سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی کو استعمال کرتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں، اور ان جرائم کے ذمہ داروں و سہولت کاروں کو جواب دہ ہونا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایران پر اسرائیل کی بلاجواز جارجیت قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے، غزہ میں جاری ظلم اور بھوک ہمارے اجتماعی ضمیر پر نہ ختم ہونے والا زخم ہے، غزہ میں جاری ظلم و بربریت اور بھوک ہمارے ضمیر پر بوجھ ہے، ظلم و خونریزی کے فوری خاتمے کا مطالبہ دہراتے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے منظور کردہ دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیانجن میں موجودگی میرے لیے باعث فخر ہے، تیانجن چین کی بنیادی قدروں کی نمائندگی، تہذیبوں اور ثقافتوں کے لیے پل کا کردار ادا کرتا ہے، تیانجن میں اسی جذبے کی تجدید کے لیے جمع ہوئے جسے چین نے عملی شکل دی۔ شاندار میزبانی اور بھر پور انتظامات پر صدر اور حکومت چین کا شکر گزار ہوں۔ چین کی عالمی قیادت ایس سی او ہی نہیں تمام نمایاں اقدامات میں نظر آتی ہے۔
محمد شہباز شریف نے مزید کہا کہ ازبکستان اور کرغزستان کو ان کے یوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ایس سی او علاقائی تعاون و انضمام کے فروغ کے لیے پاکستان کے دیرپا عزم کی عکاسی ہے، چین کی کامیابی صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ اور بصیرت افروز قیادت کی عکاس ہے۔
