Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

حکومت کی آئی ایم ایف کو گیس ، بجلی اور پیٹرول مہنگا کرنے کی یقین دہانی

حکومت کی آئی ایم ایف کو گیس ، بجلی اور پیٹرول مہنگا کرنے کی یقین دہانی

نئے مالی سال میں عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جائے گا بجلی اور گیس پت سبسڈی ختم ہو گی، ائی ایم یف کو یقین دہانی

 

اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو حکومت پاکستان نے ﷽ری یقین دیانیاں کرائی ہیں اوع اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات میں مزید لیوی، بجلی کے بلوں میں ڈیبٹ سروس سرچارج لگانے اور گیس کی قیمت میں اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے، وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے نیتجے میں عوام کو ایک  بار مزید مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا، ذرائع

 

نجی ٹی وی کی خبر کےمطابق وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے آغاز پر بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا پلان تیار تیار کرلیا ہے، جس کے تحت یکم جولائی 2025 سے بجلی ٹیرف کی سالانہ ری بیسنگ کی جائے گی، گیس ٹیرف میں یکم جولائی 2025 اور 15 فروری 2026 کو ایڈجسٹمنٹ ہوگی جس کے لیے حکومت نے نئے بجٹ سے پہلے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو بڑی یقین دہانیاں کرا دی ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں عوام کو اضافی مالی بوجھ اٹھانے کے لیے تیار رہنا ہوگا کیونکہ پیٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور صوبے بجلی اور گیس پر کوئی سبسڈی نہیں دیں گے۔

ذرائع کے مطابق گردشی قرض کی ادائیگی کے لیے بینکوں سے 1252 ارب روپے قرض لیا جائے گا اور یہ رقم اگلے 6 سال میں بجلی صارفین سے وصول کی جائے گی اور بجلی کے بلوں میں 10 فیصد ڈیبٹ سروس سرچارج شامل کیا جائے گا۔

 

ذرائع کے مطابق حکومت کو ڈیبٹ سروس چارج میں اضافے کا اختیار ہو گا اور نئے بجٹ میں بجلی سبسڈی میں کمی کی جائے گی کیونکہ گردشی قرضے کو 2031 تک صفر پر لانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

 

ذرائع نے مزید کہا کہ نیپرا سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا اجرا جاری رکھے گا، فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا بروقت اطلاق یقینی بنایا جائے گا اور بیس ٹیرف اور ریونیو میں پایا جانے والا خلا ختم کرنے کی کوشش ہوگی اور صرف ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان جولائی میں کابینہ سے منظور ہوگا جبکہ پہلی ششماہی میں توانائی سیکٹر کو 450 ارب کا فائدہ ہوا اور جنوری 2025 تک بجلی گردشی قرضہ 2444 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ جون 2024 تک گیس گردشی قرضہ 2294 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ گردشی قرضوں پر قابو پانے کے لئے اصلاحات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آئی پی پیپز سے مذاکرات کے ذریعے جون تک 348 ارب کی ادائیگی ہو گی اور کاسٹ ریکرری بہتر بنا کر توانائی کی قیمت کم جائے گی۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More