جنگ بندی کی درخواست پاکستان کی نہیں، بھارت نے امریکا سے اس خواہش کا اظہار کیا، مسلح افواج نے قوم سے کیا ہوا وعدہ نبھایا، ڈی جی آئی ایس پی
ترجمان پاک فوج کی بھارتی پائلٹ کی پاکستانی تحویل بارے خبروں کی تردید
پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، جنگ بندی کی خواہش بھارت کی تھی،مسلح افواج نے قوم سے کیا ہوا وعدہ نبھایا،ڈی جی آئی ایس پی آر
مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جس میں تینوں افواج کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ حقیقت وقت پر صورتحال کی آگاہی، نیٹ ورک سینٹرک وار فیئر اور ملٹی ڈومین آپریشنز کی مکمل صلاحیت بروئے کار لائی گئی،پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے بھارت کے 26 اہم ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا،بھارت کے ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو نشانہ بنایا گیا،کئی صلاحیتیں آئندہ کیلئے محفوظ رکھی گئی ہیں،کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ جب کبھی ہماری خود مختاری یا سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی، ہمارا رد عمل جامع، جوابی اور فیصلہ کن ہوگا،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
ر اولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے قوم سے کیا ہوا وعدہ نبھایاجس پر اللہ کا شکر گزار ہیں،پاکستان نے نہیں، مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جس میں تینوں افواج کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ حقیقت وقت پر صورتحال کی آگاہی، نیٹ ورک سینٹرک وار فیئر اور ملٹی ڈومین آپریشنز کی مکمل صلاحیت بروئے کار لائی گئی،پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے بھارت کے 26اہم ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا،بھارت کے ایس 400ایئر ڈیفنس سسٹم کو نشانہ بنایا گیا،کئی صلاحیتیں آئندہ کیلئے محفوظ رکھی گئی ہیں،کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ جب کبھی ہماری خود مختاری یا سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی، ہمارا رد عمل جامع، جوابی اور فیصلہ کن ہوگا، ہم بلا تفریق تمام سیاسی جماعتوں کے قیادت کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر، وطن کے دفاع میں متحد ہوکر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بہترین مظاہرہ کیا، مسلح افواج بالخصوص پاکستان کے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی قائدانہ صلاحیتوں اور جرت مندانہ فیصلوں کی قدر دان ہیں،6اور 7مئی کو بھارتی جارحیت کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہادتیں ہوئیں، ہمارے دل اور ہمدردیاں شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،ہماری تحویل میں کوئی بھی بھارتی پائلٹ نہیں ہے، یہ سوشل میڈیا پر چلنے والی باتیں اور مختلف ذرائع سے آنے والے فیک نیوز یا پروپیگنڈا ہے،اس تنازع نے ایک بار پھر سے مسئلہ کشمیر کو فلیش پوائنٹ بنا دیا ہے جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے جبکہ وائس ایڈمرل رب نواز نے کہاہے کہ سمندری محاذ پر کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے بالکل تیار تھے اورفضا میں بھی بھارتی سرگرمیوں پر پوری نگاہ رکھے ہوئے تھے،وائس ایئرمارشل اورنگزیب احمد نے کہاہے کہ پاک فضائیہ کو بھارت پر6-0سے کامیابی ملی، فضا میں رافیل طیاروں کو خاص اہمیت دے رہے تھے اور اس کے بعد زمین پر ایس 400سسٹم پر ہماری خاص توجہ تھی اور اس سسٹم کو آدم پور میں احتیاط سے نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان ایئرفورس اور پاکستان نیوی کے افسران کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 6اور 7مئی کو بھارتی جارحیت کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہادتیں ہوئیں، ہمارے دل اور ہمدردیاں شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا اور پاکستان کی مسلح افواج نے قوم سے کیا ہوا وعدہ نبھایا جس پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستانی افواج اپنی غیور اور بہادر قوم کا شکریہ ادا کرتی ہے، مسلح افواج کے ہر افسر، سپاہی، ایئرمین اور سیلر کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے اپنی جرت اور پیشہ وارانہ مہارت اور قربانی سے میدان جنگ میں کامیابی کو ممکن بنایا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج، پوری قوم خصوصا نوجوانوں کے جذبے، حوصلے اور بھرپور حمایت پر دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہیں، جنہوں نے مشکل ترین وقت میں ہمارے حوصلے کو بڑھایا، پاکستان کے ان نوجوانوں کے بھی مقروض ہیں جو سائبر اور انفارمیشن کے محاذ پر صف اول کے سپاہی بنے، پاکستان کے متحرک اور بہادر میڈیا کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے بھارت کے پروپیگنڈا اور جنگی جنون کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص یعنی آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم بلا تفریق تمام سیاسی جماعتوں کے قیادت کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر، وطن کیدفاع میں متحد ہوکر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بہترین مظاہرہ کیا، مسلح افواج بالخصوص پاکستان کے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی قائدانہ صلاحیتوں اور جرت مندانہ فیصلوں کی بھی قدر دان ہیں، جنہوں نے ملک کو اس نازک موڑ پر درست سمت میں رہنمائی فراہم کی۔ترجمان پاک فوج نے قوم کو آپریشن بنیان مرصوص کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جس میں تینوں افواج کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ حقیقت وقت پر صورتحال کی آگاہی، نیٹ ورک سینٹرک وار فیئر اور ملٹی ڈومین آپریشنز کی مکمل صلاحیت بروئے کار لائی گئی۔
انہوں نے کہاکہ زمین، فضا، سمندر اور سائبر اسپیس میں مکمل ہم آہنگی سے اہم اہداف کو تباہ کیا گیا اور پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے بھارت کے 26 اہم ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا، وہ تنصیبات جو پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ میں استعمال ہوتی ہے، ان تنصیبات کو نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بلکہ بھارت کے اندر بھی نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ نشانہ بنانے والے مقامات میں سورت گڑھ، سرسہ، بجھ، آدم پور، اونتی پورہ، اودھم پور، نالیہ، برنالا، بٹھنڈہ، الواڑا، سری نگر، جموں، مامون، امبالا اور پٹھان کورٹ شامل تھے، بیاس اور نگروٹا میں موجود براہموس میزائل کے ذخائر جو پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہوئے، ان کا تباہ کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو پاک فضائیہ نے بوجھ اور آدم پور مقامات پر نشانہ بنایا جب کہ اڑی میں فیلڈ سپلائی ڈیپو اور پونجھ میں ریڈار سسٹم جیسے لاجسٹک اور سپورٹ مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، کے جی ٹاپ، نشہرہ میں موجود 10 بریگیڈ اور 80 بریگیڈ کی کمانڈ تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا، یہ وہ تنصیاب ہیں جہاں سے بلااشتعال فائرنگ کرکے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ راجوڑی اور نوشیرہ میں موجود ملٹری انٹیلی جنس کی یونٹس اور ان کی فیلڈ عناصر جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث پراکسیز کو سپورٹ دیتے تھے ان کو بھی ختم کیا گیا جب کہ لائن آف کنٹرول کے باہر وہ تمام آرٹلری، لاجیسٹک اور پوسٹیں جو آزاد کشمیر میں شہریوں پر فائرنگ کرتی تھی ان پر شدید اور مسلسل جوابی کارروائی کی گئی، یہاں تک کہ انہوں نے سفید جھنڈے لہرادیے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت نے ڈرونز کے ذریعے پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاکہ عوام میں خوف پھیلایا جاسکے اور ان کو ڈرایا جاسکے، اس کے رد عمل میں آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستان کی مسلح ڈرون بھارت کے دارالحکومت نئی دلی سمیت بڑے شہروں اور مقبوضہ کشمیر سے لے کر گجرات تک مسلسل پرواز کرتے رہے تاکہ پاکستان کی صلاحیت کا نہ صرف اظہار کیا جاسکے بلکہ یہ بتایا جاسکے اس ڈرون کے ڈومینز کا موجودہ وار فیئر میں کوئی فائدہ نہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستانی افواج نے بھرپور سائبر حملے بھی کیے جس کے نتیجے میں ان بھارتی اہم مواصلاتی اور انفراسٹکچر نظام کو مفلوج کیا گیا جو بھارتی افواج استعمال کررہی تھیں، یہ یاد رہے کہ پاکستانی افواج کے پاس ایسی کئی جدید جنگیں صلاحیتیں موجود ہیں، جن میں کچھ کا استعمال محدود سطح پر کیا گیا جب کہ کئی صلاحیتیں آئندہ کے لیے محفوظ رکھی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان اقدامات کے باوجود میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی کے مقابلے میں پاکستان کا ردعمل نہایت درست، متوازن اور محدود نوعیت کا رہا، پاکستان نے نہایت مخصوص اہداف کو منتخب کیا تاکہ عام شہری متاثر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جب مشرقی سرحد پر افواج پاکستان دفاع میں مصروف تھی تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو اپنی پراکسیز کے ذریعے فروغ دے رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ جب کبھی ہماری خود مختاری یا سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی، ہمارا رد عمل جامع، جوابی اور فیصلہ کن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو یاد ہو تو مسلح افواج نے آپ سے 3 چیزوں کا وعدہ کیا تھا، ہم نے آپ کو بتایا کہ تھا ہم بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے، مگر یہ جواب ہماری مرضی کے وقت، جگہ اور ہمارے طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے قوم سے کہا تھا کہ جب ہم بھارت کو نشانہ بنائیں گے تو ساری دنیا کو پتا چل جائیگا اور ہم نے آپ سے یہ بھی کہا تھا کہ جتنا تمھیں موت سے ڈر لگتا ہے اس سے زیادہ ہماری مسلح افواج شہادت سے محبت رکھتی ہیں۔اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستانی حملوں کی انٹرنیشنل اور بھارتی میڈیا پر کوریج کے کلپس دکھائے اور کہا کہ کیا پوری دنیا نے دیکھا اور رپورٹ نہیں کیا؟ ہم نے یہی وعدہ کیا تھا، ہماری مسلح افواج نے یہی وعدہ کیا تھا جو پورا کیا۔ بعدازاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی وزارت دفاع کی نمائندوں کا ویڈیو کلپ دکھایا جس میں وہ پاکستانی افواج کے حملوں کی تفصیلات بیان کررہی تھیں، پھر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صرف بھارتی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل اور بھارٹی میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ بھارت میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہم عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، ہمار امذہب، ہماری ثقافت اور ہماری مسلح افواج کا پروفیشنل ازم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ شہریوں کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پھر آپ نے دیکھا کہ کس نے پیچھے ہٹنے کی بات کی۔
وائس ایڈمرل رب نواز نے آپریشن بنیان مرصوص کے جزو کے طور پر نیوی آپریشنز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ہم اپنے سمندری محاذ پر اپنے وطن کا دفاع کرنے اور دشمن کو دور رکھنے میں کامیاب رہے جو اعدادوشمار میں ہم سے بڑھ کر تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ تیار رہتے ہیں، اور ہمارے لیے امن سے جنگ کی پوزیشن میں آجانا کوئی بھی اہم بات نہیں، مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کے فوراً بعد ہماری بحریہ چند ہی گھنٹوں میں حالت جنگ میں آچکی تھی اور ہم سمندری محاذ پر کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے بالکل تیار تھے۔
انہوں نے کہاکہ ہم سمندر میں ہونے والی تمام سرگرمیوں پر پوری طرح نگاہ رکھے ہوئے تھے، ہم بھارتی ایئرکرافٹ کیریئر آئی این ایس وکرانت پر بھی مسلسل نگاہ رکھے ہوئے تھے اور پاک فضائیہ کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے۔وائس ایڈمرل رب نوازنے کہاکہ سمندر کے ساتھ ساتھ ہم فضا میں بھی بھارتی سرگرمیوں پر پوری نگاہ رکھے ہوئے تھے، ہم اپنے ساحل اور اپنی بندرگاہوں کی حفاظت کیلئے بھی پوری طرح مستعد تھے اور پاک نیوی نے سمندر ی تجارت کو یقینی بنایا، ہماری بندرگاہیں اس تمام صورتحال میں کھلی اور فعال رہیں۔
ڈپٹی چیف آف ایئر آپریشنز وائس ایئرمارشل اورنگزیب احمد نے آپریشن بنیان مرصوص کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے آنے والے تمام ڈرونز اور ایس یو ویز کی پہلے ہی نشاندہی کرلی گئی تھی اور انہیں ناکارہ بنایا گیا یا تباہ کردیا گیا پاک فضائیہ نے اہم بھارتی تنصیبات تباہ کیں اور جارحیت پر حملہ آور طیارے مار گرائے۔انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کو بھارت پر6-0سے کامیابی ملی، بھارت نے براہموس میزائلوں سے بھی حملہ کیا مگر ہم نے تیکنیکی طور پر انہیں ناکارہ بنایا اور اپنے اہداف سے ان کا رخ تبدیل ہوگیا۔
انہوں نے کہاکہ بھارت نے اپنے میزائلوں کے ذریعے نہ صرف افغانستان بلکہ اپنے ہی علاقے امرتسر کو بھی نشانہ بنایا۔ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے کہاکہ ہم فضا میں رافیل طیاروں کو خاص اہمیت دے رہے تھے اور اس کے بعد زمین پر ایس 400سسٹم پر ہماری خاص توجہ تھی اور اس سسٹم کو آدم پور میں احتیاط سے نشانہ بنایا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری تحویل میں کوئی بھی بھارتی پائلٹ نہیں ہے، یہ سوشل میڈیا پر چلنے والی باتیں اور مختلف ذرائع سے آنے والے فیک نیوز یا پروپیگنڈا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے کبھی بھی سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، حقیقت یہ ہے کہ 6اور 7مئی کی رات بھارت کی جانب سے درخواست کی گئی تاہم پاکستان نے واضح جواب دیا کہ ہم صرف اسی صورت بات چیت پر آمادہ ہوں گے جب ہم اپنا جواب دے دیں، 10مئی کو ہمارا جواب تاریخی تھا جس میں کسی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، ہماری جوابی کارروائی کے بعد ہندوستان نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ترجمان پاک فوج نے کہاکہ اس تنازع نے ایک بار پھر سے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر فلیش پوائنٹ بنا دیا ہے جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت جیسی 2ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ یہ دونوں کیلئے تباہی کے مترادف ہے، اسی لیے پاکستان نے اس تنازع میں بہت ہی ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ مغربی سرحد پر تعینات افواج، جو دہشت گردی سے نبردآزما ہیں، ان پر اثر نہ پڑے۔جنگ بندی کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ایل او سی پر جنگ بندی کی پاسداری کررہی ہیں، ہماری افواج کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی جارہی کیونکہ ہم ایک پیشہ ور فوج ہیں اور اپنے معاہدوں کی سختی سے پاسداری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تو عوام امن ہونے پر خوشیاں منا رہے ہیں لیکن اگر کوئی جارحیت ہوتی ہے تو ہم اس کا جواب ضرور دیں گے۔
صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا آپریشن بنیان مرصوص کا آئیڈیا کس کا تھا، کیا یہ حافظ صاحب کا آئیڈیا تھا؟جس کاڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیاکہ پاکستان کی افواج میں اسلام نہ صرف ہماری ذات کی حد تک بلکہ یہ ہماری ٹریننگ کا بھی حصہ ہے اور یہ ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے اور ہمارے آرمی چیف کا بھی پختہ یقین ہے تو لیڈرشپ کا یقین بھی مختلف طریقوں سے آپریشنز میں ٹرانسلیٹ ہوتی ہے جبکہ اس نام سے کیا پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہوتے ہیں۔اگر بھارت کی جانب سے دوبارہ ڈرونز آتے ہیں تو کیا لائح عمل ہوگا؟ صحافی کے سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم نے جو 84ڈرونز گرائے ہیں، اس سے آپ کا دل نہیں بھرا، جتنے آئے تھے گرادیے تھے، اگر مزید آئے تو وہ بھی گرادیں گے، آپ اطمینان سے رہیں وہ جو کچھ بھی بھیجیں گے وہ ہم گرادیں گے کیوں کہ ہمیں قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
