جنگ اور مذاکرات سے متعلق فیصلے رہبر انقلاب اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے اختیار میں ہیں، صدر مسعود پزشکیان
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ اور مذاکرات سے متعلق تمام اہم فیصلے ملک کی اعلیٰ قیادت کی رہنمائی میں کیے جاتے ہیں اور اس حوالے سے حتمی اختیار رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے پاس ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق صدر پزشکیان نے اتوار کے روز تہران میں ملکی ذرائع ابلاغ کے سربراہان سے ملاقات کے دوران ملک کو درپیش سیاسی، سلامتی اور معاشی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جس میں داخلی یکجہتی کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور مذاکرات جیسے اہم معاملات پر فیصلہ سازی رہبر انقلاب کی ہدایات اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے طے شدہ فریم ورک کے تحت انجام پاتی ہے، لہٰذا تمام ریاستی اور سیاسی عناصر کو ان فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔
مسعود پزشکیان نے خبردار کیا کہ داخلی اختلافات، سیاسی کشمکش اور سماجی تقسیم ملک کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں اور مختلف طبقات ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو قومی اتحاد کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ موجودہ چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کے درمیان قریبی تعاون، عوامی اعتماد میں اضافہ اور سیاسی تنازعات میں کمی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ملک کی ترقی اور استحکام اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام ادارے مشترکہ قومی اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فرد، گروہ یا سیاسی جماعت کو قانونی اور آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر اقدامات نہیں کرنے چاہئیں۔ صدر کے مطابق تنقید جمہوری نظام کا اہم حصہ ہے، تاہم تنقید ایسی نہیں ہونی چاہیے جو ریاستی اداروں کی کارکردگی یا سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی میں رکاوٹ بنے۔
مذاکرات اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ان کی حکومت باعزت اور تعمیری مذاکرات کی حامی ہے، جن کا مقصد قومی مفادات کا تحفظ اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی وقار اور بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
صدر نے ملکی مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دفاع وطن اور قومی سلامتی کے تحفظ میں افواج کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت دفاعی اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی تاکہ ملک کی سلامتی اور استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
علاقائی تعلقات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور مضبوط تعلقات ان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں۔ ان کے مطابق علاقائی تعاون نہ صرف اقتصادی اور تجارتی مواقع کو فروغ دیتا ہے بلکہ سیاسی استحکام اور سلامتی کے شعبوں میں بھی مثبت نتائج پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کشیدگی اور تنازعات میں کمی لا سکتا ہے اور مشترکہ ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا اور معاشی مشکلات کو کم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے بدعنوانی، عدم مساوات اور ناجائز مراعات کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمزور اور محروم طبقات کی حمایت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
صدر نے اعتراف کیا کہ حالیہ تنازعات اور کشیدہ حالات کے نتیجے میں بعض انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے جبکہ معاشی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے جامع اصلاحات، مؤثر منصوبہ بندی اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پایا جا سکے اور عوام کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت قومی اتحاد، معاشی استحکام، علاقائی تعاون اور عوامی فلاح کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
