Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت کی خاموش دشمن” آن لائن گیمنگ "کے خلاف چین کے کڑے اقدامات

چین کی گیمنگ انڈسٹری بہت بڑی نجی سرمایہ کاری کی حامل ہے

sara afzal

                                                                                        تحریر : سارہ افضل

 

ہر دور میں ، بچوں کے اپنے مقبول کھیل ہوتے ہیں ،ایک وقت تھا کہ وہ  گلیوں میں دوڑتے بھاگتے تھے یا گھروں میں  چھپن چھپائی  کھیلتے تھے پھر وقت آیا کہ کھیل کے میدان میں فٹ بال ، کرکٹ ہاکی کھیلنے لگے یا پھر  گھر کے اندر لوڈو یا جگ سا پزلز کھیل کر وقت گزارتے تھے ۔جیسے ہی ڈیجیٹل وقت آیا ، آن لائن ویڈیو گیمز  توجہ کا مرکز بننا شروع ہو گئیں۔ یہ دلچسپ بھی تھیں اور ان کی متعدد اقسام اور لیولز تھے  جو کھیلنے والے کو  آگے بڑھتے ہوئے فتح اور کامیابی کا احساس دلاتے تھے   لیکن ان گیمز کا ایک تاریک پہلو ہے – آن لائن گیمنگ ایک نشے کی طرح ہے  اور یہ ایک عالمی چیلنج بن   چکی ہیںکیونکہ کوئی بھی بچہ جس کی دسترس میں  موبائل ڈیوائس یا انٹرنیٹ تک رسائی ہے وہ اس ” آن لائن  بیماری ” کا شکار ہوسکتا ہے۔

چین میں چھ سے انیس سال کے درمیان کی عمر کے  تقریباً۱۵۸ ملین انٹرنیٹ صارفین ہیں ، جو کہ ملک کے کل انٹرنیٹ صارفین کا ۱۵ اعشاریہ ۷ فیصد ہیں۔۲۰۲۰ میں انٹرنیٹ کے استعمال سے متعلق ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ  ۱۸ سال سے کم عمر کے  ۶۰ فی صد  سے زائد انٹر نیٹ صارفین آن لائن گیمز کھیلتے ہیں یہ تعداد موبائل گیمنگ کا  ۵۶  فیصد بنتی ہے۔ چین کی گیمنگ انڈسٹری بہت  بڑی نجی سرمایہ کاری کی حامل  ہے۔  چائنا انٹرنیٹ نیٹ ورک انفارمیشن سینٹر کے مطابق ۲۰۲۰  میں چین کی گیمنگ انڈسٹری کی سالانہ آمدنی۲۷۸ اعشاریہ ۷  بلین یوآن (تقریبا ۴۳۴۳ ارب امریکی ڈالر) ہو گئی جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً ۲۱  فیصد زیادہ ہے ۔ حالیہ برسوں میںآن لائن گیمنگ کے  بڑھتے ہوئے  غیر معمولی  رحجان کے باعث  والدین ، اساتذہ اور معاشرے کے سنجیدہ طبقے بچوں کی صحت اور ان کے مستقبل کے حوالے سے فکر مندی کا اظہار کرنے لگے ۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ  آن لائن گیمنگ کی لت  سےبچوں پر  جومنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں  یہ ناصرف ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ تعلیمی کارکردگی  کو متاثر کرتے ہیں  بلکہ  بچوں اور ان کے والدین کے  درمیان  تناؤ پیدا بھی  کرتے ہیں ،یہاں تک کہ نوجوانوں میں  جرائم میں ملوث  ہونے کے خطرے  میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔  معاشرے کے سنجیدہ طبقوں کی جانب سے اس کےاثرات  کو کم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا کہ کسی طرح قانونی دائرے میں رہتے ہوئے آن لائن گیمنگ کی سہولت فراہم کرنے والوں کے لیے اصول و ضوابط مرتب کیے جائیں ۔

چینی حکومت نے گیمنگ کی علت کے خلاف ایک  بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ۱۸ سال سے کم عمر بچوں کے لیے گیمنگ کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے اور  آن لائن گیمنگ  فراہم کرنے والوں کو پابند کیا ہے کہ وہ ۱۸ سال سے کم عمر بچوں کو  جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کے ساتھ ساتھ سرکاری تعطیلات کے دوران  رات ۸ سے ۹ بجے  تک صرف ایک گھنٹے کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں اور ۹ بجتے ساتھ ہی یہ گیم خودکار انداز میں بند ہو جائے گی ۔ گیمنگ پر پابندی چین کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ این پی پی اے نے۲۰۱۹  میں ایک نوٹس جاری کیا تاکہ ۱۸ سال سے کم عمر بچوں کے  گیمنگ اوقات کو محدود کیا جاسکے ، اس نوٹس نے  بچوں کو ویڈیو گیمز کی عادت کے منفی اثرات سے بچانے کی بنیاد رکھی تھی وقت کے ساتھ ساتھ  اسے مزید مضبوط بنانے کی تجاویز بھی سامنے آتی رہیں ۔

اس حوالے سے سب سے پہلا خدشہ یہ  تھا کہ بچے جعلی اکاونٹ بنا سکتے ہیں ، غلط تاریخِ پیدائش درج کر کے خود کو ۱۸ سال یا اس سے بڑا بھی ظاہر کر سکتے ہیں ، لہذا اس سب سے اہم ‘جھول” کو دور کرنے کے لیے کے لیے اصلی نام کی رجسٹریشن اور لاگ ان کے بارے میں کڑی ہدایات اور شناختی مراحل کے ایسے سوالات متعارف کروائے گئے ہیں جن کے ذریعے آن لائن گیم فراہم کرنے والے صارفین اگر حقیقی شناخت کے ساتھ  رجسٹر ہونےیا  لاگ ان کرنے میں ناکام رہیں گے تو ان  صارفین کو آئندہ کسی بھی قسم کی گیم سروس فراہم نہیں کی جائے گی۔ بیجنگ چلڈرن لیگل ایڈ اینڈ ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں ، کچھ والدین کا خیال تھا کہ گیمنگ کے اوقات کو محدود کرنا اس مسئلے سے  نمٹنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے ، جبکہ کچھ نے چہرے کی شناخت جیسی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی تجویز  بھی دی تاکہ حقیقی نام کے اندراج اور لاگ ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

چینی حکومت آن لائن گیمنگکے قوانین کے ساتھ ساتھ ،رواں ہفتے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر  ملک گیر تعلیمی اصلاحات بھیبھرپور انداز میں سامنے لے کر آئی ہے۔ٹیوشن انڈسٹری کو محدود کرتے ہوئےطلبا اور والدین کے بوجھ کو کم کرنے پر توجہ دی گئی  ہے۔اب اسکولز کو  ایسے نئے  کورسز ڈیزائن کرنے اور بچوں کو اسکول کے بعد  ایسی خدمات فراہم کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہا گیا ہے  جو بچوں کے مشاغل  کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی  ذہنی و جسمانی تندرستی کو بہتر بنانے کے لیے فائدہ مند ہوں ۔تعلیمی شعبے میں ان اصلاحات کے باعث  بچوں کو  جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کے لیے زیادہ وقت ملے گا جو کہ ان کی  جسمانی نشو نما اور کردار سازی کے لیے  بھی اچھا ہے  نیز ان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ایک منظم بنیاد بھی فراہم ہو گی ۔

بیجنگ چلڈرن لیگل ایڈ اینڈ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ٹونگ لیہوا ن نےآن لائن گیمنگ کے ان قوانین کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوَئے بات کا خلاصہ ان الفاظ میں کیا کہ ، اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے ملک اس مسئلے کا حل نکالیں۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی انڈسٹری ہے لیکن کسی بھی انٹرپرائزز کو  ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل اور ان کے مفادات کی قیمت پر ترقی نہیں دی جا سکتی ہے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More