امریکا نے ایران کے ساتھ معاہدے پر اتفاق کر لیا ۔ امریکی اخبار
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم معاہدے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں اس معاہدے کے حوالے سے سرکاری بیان جاری کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کی شق بھی شامل ہوگی، جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے لیے جدید الیکٹرانک طریقہ کار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یا تو وہ خود اس معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کریں گے یا پھر نائب صدر جے ڈی وینس ان کی جانب سے دستخط کریں گے۔
صدر ٹرمپ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق حساس مواد کو ہٹانے یا منتقل کرنے کے معاملے میں فوری جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے کو بعد میں بھی مکمل کیا جا سکتا ہے اور فی الحال معاہدے کے دیگر اہم نکات پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو کسی قسم کی براہِ راست نقد مالی امداد فراہم نہیں کرے گا۔ تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ ایران معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دستخطی تقریب کے انعقاد میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بعض انتظامی اور تکنیکی معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس کے بعد معاہدے کی رسمی کارروائی مکمل کر لی جائے گی۔
اگر یہ معاہدہ باضابطہ طور پر طے پا جاتا ہے تو اسے امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جائے گا، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں استحکام لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم معاہدے کی حتمی تفصیلات اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق مزید معلومات صدر ٹرمپ کے متوقع سرکاری اعلان کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔
